خطبات محمود (جلد 6) — Page 23
کیلئے مقرر ہے۔تو اس طرح ہر ایک مذہب واے کو یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ تمام مذاہب میں سے ایک ہی مذہب پہنچا ہو سکتا ہے۔سارے کے سارے نہیں کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ مختلف طریق پر محنت شقت کرنے والوں کو ایک ہی نتیجہ حال ہو۔اگر لیا ہوتا توقانون قدرت میں بھی اسکی کوئی مثال پائی جاتی۔کہ ایک شخص جو لکڑیاں کا ختا رہتا ہے۔وہ صرف علم کی خواہش رکھنے کی وجہ سے عالم بن جاتا ہے لیکن کبھی ایسانہیں ہوا۔اور نہ ہو سکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا قانون یہ نہیں ہے کہ محنت و مشقت ایک ہی نتیجہ پیدا کرے اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کسی مقصد اور مدعا میں اُسی وقت کامیابی ہو سکتی ہے۔جبکہ صحیح اور درست طریق پر عمل کیا جائے پس ہر ایک کام جس میں کامیابی حاصل کرنی ہو۔اس کے لیے یہی ضروری نہیں کہ اس کے لیے محنت کریں۔راتوں کو جاگیں جسموں کو تھکا دیں۔ارادوں کو قربان کر دیں۔مالوں کو خرچ کردیں۔بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان صحیح ذرائع کو استعمال کریں جو خدا نے اس کے لیے مقر رکتے ہیں۔اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی جب سے دنیا کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس وقت سے مذہب ہدے اور بدلتے چلے آرہے ہیں۔اور اسلام سب سے آخری مذہب ہے۔مگر جس طرح کسی وقت یہ نہیں بدلا کہ خدا ایک ہے۔اسی طرح شروع سے یہ بات چلی آتی ہے اور کبھی نہیں بدلی ک کسی کام میں انہیں ذرائع سے کامیابی ہوسکتی ہے جو اس کے لیے خدا نے مقرر کئے ہوں۔ان کے نا کبھی نہیں۔خواہ کتنی ہی محنت و مشقت کیوں نہ برداشت کر لی جائے صیحیح ذرائع سے تھوڑی سی محنت کر کے کامیاب ہو سکتا۔مگر غلط طریق سے اس سے ہزار گنا محنت کر کے بھی کچھ نہیں حاصل کر سکتا۔مثلاً علم حاصل کرنے کے جو طریقی ہیں۔ان پر عمل کرے تو علم حاصل کرلے گا، لیکن اس کی بجائے اگر وہ اپنے تمام عزیزوں اور رشتہ داروں کو قتل کر دے چھت سے الٹا لٹکا رہے۔بھوکا پیاسا بیٹھا رہے۔اور پھر کے اللہ نصف نہیں کیونکہ فلاں توصرف مدر سے جاتا اور کتابیں پڑھتارہتا ہے، اسے علم دید یا ہے اور میں جس نے اتنی قربانیاں کیں۔اتنی تکلیفیں اُٹھائیں۔مجھے تو ایک لفظ بھی حاصل نہیں ہوا کیا اس کی یہ بات درست ہوگی۔ہرگز نہیں، کیونکہ خدا تعالیٰ ظالم نہیں، لیکن چونکہ اس نے ان ذرائع پر عمل نہیں کیا جو خدا نے اس کام کے لیے مقرر کئے ہیں۔اس لیے کامیاب نہیں ہو سکا۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صحیح طریق پر تو عمل نہیں کرتے۔ہاں بڑی محنت اور مشقت کو کامیابی کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح با وجود بہت زیادہ محنت اور مشقت برداشت کرنے کے ناکام اور نامراد رہتے ہیں۔