خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 22

میں کر سکے گا۔مثلاً ایک شخص کے پاس ہی پانی کا بھرا ہوا گھڑا موجود ہو۔اس کے لیے پانی حاصل کرنے کا صحیح طریق تو یہ ہے کہ گھڑے کے پاس جا کر اسے الٹاتے۔اور خواہ برتن میں خواہ پھلو میں پانی سے بیکن اگر وہ اس گھڑے کے پاس نہیں جاتا اور اس سے ایک گز دور بیٹھ کر ہاتھ جوڑتا اور بڑی عاجزی اور فروشنی سے کہتا ہے۔اسے پانی میرے منہ میں آجا۔اور اس کے لیے روتا چلاتا اور بڑی آہ وزاری کرتا ہے اور وہ بھی ایک دن نہیں ، دو دن نہیں بلکہ متواتر تی وی۔اس طرح ایسے اس شخص کی نسبت جس نے گھڑا الٹا کر پانی سے لیا ہو۔تکلیف تو بہت اُٹھانی پڑے گی لیکن کیا اس کو پانی حاصل ہو جاتے گا۔ہر گز نہیں۔کیونکہ اس نے پانی حاصل کرنے کے لیے وہ طریق اختیار کیا ہے۔جو غلط ہے اور اس کے زیادہ تکلیف اور مشقت اٹھانے اور زیادہ وقت خرچ کرنے سے پانی نہیں مل جائے گا۔پانی اس کو لے گا جس نے گھڑے کو الٹ کر اس سے پانی نکالا ہوگا اس کی پیاس بجھ جائیگی، مگر اس کی اور زیادہ ہوگی کیونکہ ہر ایک وہ کام جس سے انسان کے جسم سے رطوبت خارج ہوتی ہے۔پیاس بڑھانیوالا ہوتا ہے اور چونکہ دونے سے بھی رطوبت خارج ہوتی ہے اسلیئے پیاس بڑھتی ہے۔تو کامیابی ایک حد تک مصیبت اور شکل اٹھانے کا نام نہیں بلک ان ذرائع کے استعمال کرنیکا نتیجہ ہوتی ہے جوخدا نے کسی کام کیلئے منفرد کتے ہوتے ہیں انکو چھوڑ کر خواہ کتنی محنت اور مشقت اپنے اوپر رکھ لے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک ہی مذہب ایسا ہو سکتا ہے جس پر چل کر اصل مقصد اور مدعا حاصل ہو سکتا ہے۔اسی لیے ہر ایک مذہب والے کہتے ہیں کہ ہمارا ہی مذہب سچا ہے اور باقی سب جھوٹے ہیں۔گو بعض مذہب والوں نے اس کو وسیع کیا ہے۔اور وہ کہتے ہیں کہ اور مذاہب کے ذریعہ بھی خدا تک انسان پہنچ سکتا ہے، لیکن جب ان سے گفتگو کی جائے تو وہ بھی یہی ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ دراصل ایک ہی مذہب ایسا ہوسکتا ، جس پر چل کر انسان کو کامیابی نصیب ہو سکتی ہے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک مذہب والا جو اپنے مذہب کے احکام کے مطابق کام کر رہا ہے۔کیا وجہ ہے کہ اسے نجات نہ ملے۔ان کے اس خیال کا اگر ازالہ ہوسکتا ہے۔تو اسی بات سے کہ کسی کام میں کامیابی محض محنت اور مشقت برداشت کرنے سے نہیں ہوتی۔بلکہ اس کے لیے صحیح اور درست طریقی کو اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔دیکھو ایک شخص مدرسہ میں جاتا ہے اور علم حاصل کر لیتا ہے اور ایک دوسرا شخص جنگل میں جاکر لکڑیاں کاٹتا ہے تو کیا وہ اس وجہ سے کہ مدرسہ جانے والے سے زیادہ محنت اور تکلیف برداشت کرتا ہے علم حاصل کرلے گا۔نہیں بلکہ علم وہی حاصل کرے گا جو اس طریق پر عمل کریگا۔جو علم کے حاصل کرنے