خطبات محمود (جلد 6) — Page 167
146 32 ایام جلسہ میں احباب قادیان کے فرائض د فرموده ۲۸ فروری شاشته ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت اب کے نہیں دکبر کے ایام میں جو ہمیشہ جلسہ کے لیے مقرر ہوتے ہے ہیں جلسہ کو ملتوی کر کے بعد کی کسی تاریخ پر اُٹھا رکھنا پڑا تھا۔اب غور و فکر اور مشورہ کے بعد یہی مناسب سمجھا گیا کہ جلسہ مارچ کے دنوں میں ہو۔کیونکہ اپریل کی نسبت زمیندار مارچ میں زیادہ فارغ ہوتے ہی چونکہ اس سالانہ اجتماع میں چاروں طرف سے لوگ آتے ہیں اور خدا کے فضل سے اس کثرت سے آتے ہیں کہ بیان والوں کو انتظام میں مشکل ہوتی ہے۔اس لیے میں اپنے سب احباب کو متوجہ کرتا ہوں کہ انتظام کے لیے صرف وہی لوگ کافی نہیں جن کے سپرد دوران سال میں یہ کام ہوتا ہے اور نہ صرف مدرسوں کے طالبعلم کافی ہوتے ہیں۔گو جلسہ کے ایام میں زیادہ تر کام کا بار دونوں مدرسوں پر ہی پڑتا ہے یعنی دونوں مدرسوں کے طالبعلم اور مدرس کام کرتے ہیں۔مگر ان کے سوا دوسرے لوگوں کے سپر د بھی کام ہوتا ہے۔میرے نزدیک سوائے چند دوکانداروں کے جن کا یہ وقت ہوتا ہے کہ وہ کچھ خرید وفروخت کریں وہ معذور ہیں۔جہاں تک ہوسکے دوسرے تمام احباب کا فرض ہے کہ وہ منتظموں کا ہاتھ بٹائیں۔تاکہ باہر سے آنے والوں کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو۔ہر شخص کو کبھی نہ کبھی مان بننا پڑتا ہے اور وہ جان سکتا ہے کہ سفر میں کس قدر تکلیفیں ہوتی ہیں۔سفر کا صحت پر بہت اثر پڑتا ہے کیونکہ صحت کے قیام کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کے میتر آنے میں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔کھانا اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا کہ جو صحت کے مناسب غذا ہو وہ کھائیں۔پھر اکیلے دو کیلے میں ایسی غذا کا بھی انتظام ہو سکتا ہے مثلاً کوئی شخص کسی کے ہاں جاتا ہے تو وہ اس کی خاطر کئی قسم کے کھانے مہیا کر دیتا ہے، لیکن ان اجتماعوں میں کئی اقسام کا کھانا نہیں مل سکتا۔ایک ہی قسم کا کھانا ہوتا ہے کیسی وقت وال کسی وقت شوریا۔