خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 168

IMA پس ایسے موقعوں پر مناسب چیزیں نہیں مل سکتیں ، نہ پورے طور پر ایسے مکانات مل سکتے ہیں جو کانی آرام دہ ہوں۔نہ چار پائیوں کا پورا انتظام ہوتا ہے۔زمین پر ہی لیٹنا پڑتا ہے۔پھر سفر میں جو بستر ہمراہ ہوتا ہے وہ بھی کافی نہیں ہوتا پس ان وقتوں کی وجہ سے ایک قسم کی کمزوری انسان میں پیدا ہو جاتی ہے اور وہ چڑ چڑا ہوجاتا ہے۔یہ درست بات ہے کہ انسان میں جتنی طاقت ہوگی اتنا ہی وہ حلیم الطبع ہو گا، لیکن جیتنا کمزور ہوگا۔اتنا ہی چڑ چڑا ہو گا۔تو سفر میں کمزور صحت والوں کے لیے بہت تکلیف ہوتی ہے غرضان تمام حالتوں میں مہمانوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور میزبانوں کے لیے بھی بڑے اجتماعوں میں مشکل ہوتی ہے۔ہمارے سکولوں کے بیچے شوق رکھتے ہیں کہ ان ایام میں مہمانوں کی خدمت کریں۔اور وہ خوشی سے کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کو تجربہ نہیں ہوتا۔اس لیے وہ مہمانوں کی ضرور توں کو بھی بعض اوقات پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔اس لیے جو لوگ تجربہ کار ہیں۔ضرورت ہے کہ وہ ان بچوں کے نگران مقرر کئے جائیں۔پس جو لوگ اس کام کو کر سکتے ہیں۔جہاں تک ہو سکے وہ مہمانوں کی آسائش میں ہاتھ بٹائیں، لیکن یہ ابھی سے ہونا ہیئے تاکہ افسر اُن لوگوں کے متعلق کام تجویز کر سکیں۔اگر وقت پر کہا جائیگا تو وہ ان کے لیے کام نہیں تجویز کر سکیں گے۔کیونکہ کسی کے لیے مناسب کام تجویز کرنا بھی بڑے غور و فکر کا کام ہوتا ہے پس جلدی اپنی خدمات کو پیش کر دینا چاہیئے۔تاکہ ان کو وہ کام سپرد کئے جائیں چین کے وہ اہل ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہمان کی عزت و اکرام ایمان میں داخل ہئے ہیں چاہتے کہ احباب اپنے مہمانوں کے آرام و آسائش کے سامان جہاں تک ان سے ہو سکے مہیا کر کے اپنے ایمانوں میں زیادتی کریں۔خدا تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔آمین + الفضل ه ر مار چ ناولته ) بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف