خطبات محمود (جلد 6) — Page 166
سختی سے کر دو، تو دوسرے وقت دوسرے ہی ن اس قوم کو یہ کہاکہ ختی کا مقابلہ نرمی سے کرو مگر اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو دیکھو ان پر کس قدر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ جہاں سختی کے مقابلہ می سختی کا موقع ہو و بال سختی کرو اور جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں نرمی کرو گویا ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ خود سوچے اور خود فیصلہ کرے کہ اس موقع پر مجھے کیا کرنا چاہتے۔آیا سختی کا جواب سختی سے دینا چاہیئے۔یا نرمی سے اور جیسا مناسب موقع ہو جواب دے تو جہاں مسلمانوں پر سپی قوموں کے مقابلہ میں انعام کی ترقی ہوئی ہے وہاں ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔اس لیے مومن کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔اور کسی قسم کا دھوکہ نہ کھاتے کیونکہ اگر اسے یہ بتایا گیا ہے کہ صراط الذین انعمت علیہم میں سے بنے دوسری طرف اسے یہ بھی کہدیا گیا ہے کہ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین میں سے نہ بنے اور خیر ہم ہوتے ہوئے شہر اہم نہ ہو جائے مگر بہت لوگ ہوتے ہیں جو اس بات کو نہیں سمجھتے اس کے لیے خاص کوخوش کرنا چاہیتے اور اس کے ساتھ دکھاؤں میں مشغول رہنا چاہیئے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر کبھی انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی توفیق دے اور ان فصلوں کا وارث بناتے جن کے و عدسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آپ کو دیتے گئے ہیں ؟ ( الفضل یکم مارچ شانه )