خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 319

60 وساوس موجب ہلاکت ہوتے ہیں د ار فرموده ۷ ار اکتو بر شته ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سورۃ فاتحہ نہیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے، کہ انسان کو بھی اپنے دشمنوں سے بے خوف اور مامون اور نڈر نہیں رہنا چاہتے۔کیونکہ جو شخص عداوت پر آمادہ ہو گیا۔اور اس نے اخوت اور محبت کو ترک کر دیا۔اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ وہ دکھ دینے اور ایذا پہنچانے سے ہاتھ روک رکھے گا، جہالت ہے۔دُنیا کے معاملہ میں اس امر کی سچائی کس طرح اور کہاں تک ثابت ہوتی ہے۔اس پر مجھے اس اس وقت کچھ بیان کرنے کی ضرورت نہیں مگر دین کے معاملہ میں اس کی سچائی بہت روشن اور مبرہن ہے اور اسی کے متعلق میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں بیان فرمایا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الصَّالِينَ - انسان کامیابی کے راستہ پر چلا جاتا ہے۔ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں کامیاب ہو گیا کہ یک دم اس کے راستہ میں ایسی روکیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ بجائے اس مقصد کے پانے کے، اور بجائے اپنی منزل کے قریب ہونے کے اس راستہ کے الٹ چل پڑتا ہے۔اور مدعا کے پانے سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا کیا ذریعہ ہے ؟ اس کو قرآن کریم نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے اور وه سورة والناس ہے۔فرمایا کہ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلهِ النَّاسِ مِن شَرِ الْوَسُوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ - تمام قرآن کریم سورة فاتحہ کی تشریح ہے۔جیسا کہ تمام سمجھنے والوں نے بیان کیا اور جس کو حضرت مسیح موعود نے بھی تسلیم کیا۔تو سوز رانی غَير اLED AT ANNE GUNGUNAN لالین کی تشریح ہے۔اس میں یہ بیان فرمایا ہے کہ کس طرح وَلَا الصَّالِينَ کی انسان اصل مقصد سے پھر جاتا ہے۔کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کی ترقی کو نہیں دیکھ سکتے اور کی