خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 320

٣٢٠ کچھ خبیث ارواح ہوتی ہیں، جو یہ نہیں دیکھ سکتی کہ کوئی خدا کا بندہ خدا کے دروازے پر پہنچ جائے اور اس سے تعلق قلبی پیدا کرے۔وہ انسان کو اس مقصد سے ہٹا کر خدا کے مقابلہ میں لیجا کھڑا کرتی ہیں اس حالت سے کوئی انسان بھی کسی مقام پر پہنچ کر محفوظ نہیں۔جب تک کہ خدا کی خاص حفاظت کے نیچے نہ آجائے اور خدا کا محبوب نہ ہو جائے۔وہ ارواح خبیثہ خواہ انسان ہوں، خواہ ابلیس ہوں۔ہاں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان محفوظ ہو جاتا ہے۔ورنہ اس کے نیچے کے تمام درجوں میں انسان خطرے میں ہوتا ہے۔تو سورۃ فاتحہ میںاللہ تعالی متنبہ کرتا ہے کہ شمن سے آگاہ رہنا چاہتے۔یہ نہ ہوکہ کسی وقت اس کے خطرے سے فاضل ہو جاؤ۔اگر غافل ہو جاؤ گے۔تو ہی نہیں کہ منزل پر پہنچے میں دیر ہوگی۔بکرہ دشمن اکٹ رستہ پر لگا دیگا۔اور خدا کے مقابلہ میں اور بجائے خدا کی تلاش کے اس کے غضب کے نیچے کھڑا کر دیگا۔تہ تنبیہ اور یہ ہوشیار کرنا کچھ ذہنی نہیں محض تنبیہ کے لیے نہیں۔کیونکہ بعض دفعہ کی تعلیم کو مکمل کرنے کے لیے اس کے ایسے حصے بھی بیان کر دیتے جاتے ہیں۔گو ان حصوں کا راستہ مں آنا مشکل ہوتا ہے۔پس یہ بات محض تنبیہ کے لیے نہیں۔بلکہ یہ وہ بات ہے۔جو روزانہ مشکلات میں کام آنے والی ہے۔ہماری جماعت میں سے ان لوگوں کو دیکھ لو جو الگ ہو گئے ہیں۔وہ اپنے نزدیک بلکہ جماعت کے ایک طبقہ کے نزدیک سلسلہ کے ستون بنے ہوئے تھے۔اور وہ لوگ وہ ہیں جو اخلاص رکھتے تھے۔لیکن کوئی مخفی عجب ایسا ان کے دل میں پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بیجائے ان کو بلند کرنے کے گرا دیا اور اس عجب نے بجاتے ان کو اصلی مقصد کی طرف لے جانے کے ان کی یہ حالت کر دی کہ و معضل ہو گئے۔نہ صرف خود ہی محروم ہوتے بلکہ دوسروں کے لیے بھی محرومی کا موجب ہو گئے۔خود ہی اس راہ کو نہیں چھوڑا۔بلکہ دوسر کو چھوڑانے کے درپے ہو گئے۔حالانکہ زیادہ سال نہیں گزرے کہ وہ سلسلہ کے لیے کوشش کرتے تھے۔اور اس کی ترقی چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کب ان کے دل میں عجب آگیا۔اور کب اس کے رستہ کو چھوڑ دیا، لیکن خدا جو نیتوں اور قلبی کیفیتوں کے مطابق نتایج پیدا کر دیتا ہے۔دیکھو وہ لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔اور مخالفت میں اس قدر ترقی کر گئے کہ اگر غور کیا جائے تو انہوں نے اپنی طرف سے سلسلہ کی بیخ کنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بڑا وجود اگر سلسلہ شرعی ہو تو اس کے بانی کا ہوتا ہے اور اگر سلسلہ شرعی نہ ہو تو اس شخص کا وجود ہوتا ہے۔جو شریعت کو قائم کرے۔کیونکہ خدا تو نظر نہیں