خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 318

۳۱۸ شخص ہے جسے امین تو کہ سکتے ہیں لیکن امت کا سپاہی اور جبری نہیں کہ سکتے۔جیسے کہ خالد بن ولید کو کہ سکتے ہیں مگر ابو عبیدہ سے جو کام ہوا۔وہ خالد سے نہیں ہوا۔اس لیے نہیں کر وہ اہل تھے یا اپنے آپ کو اس کام کا اہل جانتے تھے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اس کام کو خدا کے لیے اپنے ذمہ لیا تھا۔اور خدا کے مقرر کردہ انتظام کے ماتحت کیا تھا۔اس لیے خدا نے ان کی مدد کی۔اور ان کے ذریعہ نہایت عظیم الشان فتوحات حاصل ہوتیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو خدا کے لیے کھتا ہے۔خدا اس کی مدد فرماتا ہے۔تو ایک موقع پر دنیاوی حکومتوں میں ڈپٹی۔نائب تحصیلدار تحصیلدار- کلرک کو اجازت ہے کہ وہ استعفی دیدیں مگر دین کے انتظام میں غذر کا موقع نہیں ہے۔جو الیا کرتا ہے۔اس کے دل پر رنگ بیٹھ جاتا ہے۔پھر جب وہ دوسری دفعہ انکار کرتا ہے۔تو دوسرا سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔پھر جب تیسری دفعہ انکار کرتا ہے تو تیرا نقطہ لگ جاتا ہے حتی کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس شخص کا یہ بار بار کا انکار اس کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے پس جتنا وہ انکار کرتا ہے اتنا ہی اس کا ایمان مرتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھنے کی توفیق دے اور وہ اطاعت پیدا کرے۔جو وہ اپنے بندوں میں چاہتا ہے کہ پیدا ہو۔آمین : الفضل ۱۵ نومبر ۹۱انه )