خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 65

۶۵ ہوتاہے کہ گھر میںبیٹھ کر بہت باتیں بنایا کرتا ہےاور کہتا ہے۔ اگر فلاں میرا دشمن آتے تو میں یوں اسکا مقابلہ کروں یوں اسے ماروں ، لیکن جو لیکن جب وہ آدمی سامنے آجاتا ہے تو اس کا رنگ فق ہو جاتا ہے مگر بہادر کی جب وہ حالت بزدل سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہ گھر بائیں نہیں بناتا۔ بلکہ میدان میں زور دکھاتا ہے اور جس قدر مشکلات میں پڑتا ہے۔ اسی قدر اس کی شجاعت اور دلیری زیادہ صفائی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ بس مومن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مشکلات سے گھرا کر نہ رکتا ہے نہ ہٹتا ہے بلکہ اور زیادہ تیزی سے آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ہے اور جنہوں نے اس نکتہ کو سمجھا ہے وہی لوگ دنیا میں شاد کام اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اہل یورپ نے سیاست کو خوب سمجھا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ شدائد میں وہ مست ہونے کی بجائے زیادہ ہمت اور جرات سے کام کرتے ہیں۔ فرانس میں کچھ لوگ پیدا ہو گئے تھے جو صلح کرنا چاہتے تھے ۔ اور باقی ملک تلوار سے دشمن سے فیصلہ کرنا چاہتا تھا۔ دونوں قسم کے لوگ خیر خواہ لوگ ملک تھے مگر جب جرمن نے بڑھ بڑھ کر حملے کرنے شروع کئے تو وہ لوگ جو صلح چاہتے تھے انہوں نے بھی ملک کی حفاظت کے لیے تلوار سے فیصلہ کرنے کو ہی زبانی باتوں سے صلح کرنے پر ترجیح دی ۔ اگر یہ صلح پسندوں کو بزدل کہا جاتا تھا۔ مگر جب جرمن نے زور سے حملہ شروع کیا تو وہی لوگ جن کو بزدن خیال کیا جاتا تھا۔ میدان میں دشمن سے مقابلہ میں مصروف ہو گئے ۔ اور اس طرح انہوں نے ثبوت دیدیا کہ ہم جو صلح کے طالب تھے۔ تو بزدلی کی وجہ سے نہ تھے بلکہ ملک کی خیر خواہی ہمارے خیال میں صلح کی صورت میں تھی ۔ مسلمانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس وقت دشمنوں نے ان پر زیادہ سختی کی اور نہایت خطرناک صورت پیدا ہوگئی اور دشمن گروہوں کے گروہ بڑھے چلے آئے تو اس وقت وہ گھراتے نہیں بلکہ مقابلہ کو ہی انہوں نے اپنے بچاؤ کی صورت خیال کیا ۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ تو وہی ہے جس کا نہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا۔ ہیں اگر آج ہم پر ہمارے مخالفین طرح طرح کے حملے کر رہے ہیں۔ تو ہم اس سے کیسے گھر سکتے ہیں۔ ہم تو خوش ہیں کہ سبحان اللہ آج سے تیرہ برس بیشتر حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں ہمیں بتلا دیا تھا کہ ابتلا پر ابتلا آئیں گے حتی کہ بعض بد قسمت ارتداد کی راہ اختیار کر لیں گے۔ پس ہمارے لیے تو خوشی کا مقام ہے کہ حضرت مسیح موعود کی ایک اور پیشگوئی پوری ہوئی ۔ اللہ اور اس کے رسول کے وعد سے سچ اور حق ہیں۔ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو زبانی کہا کرتے ہیں ہم کسی کی کیا پرواہ کرتے ہیں مگر جب مقابلہ