خطبات محمود (جلد 6) — Page 64
ہندوستان میں بھی بہت سے علاقہ ہیں جن سے مقابلہ نہیں ہوا۔اور ان کو دلائل و براہین حقہ سے شکست نہیں دی گئی۔پھر حضرت صاحب ہندوستان کے لیے ہی نہ تھے۔بلکہ آپ افغانستان - ایران - شام عرب اور یورپ کے تمام ممالک امریکہ افریقہ اور ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی آتے تھے۔اس لیے ان تمام ملکوں کے لوگ جب تک ہم سے مذہبی مقابلہ میں شکست نہ کھائیں ان کی کوئی شکست نہیں اور ہماری کوئی فتح نہیں۔اس میں شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے شیطان کے مرکز کو اپنی حیات طیبہ میں ہی توڑ دیا تھا اور شیطان کو میدان سے بھگا دیا تھا۔مگر اب وہ قلعوں میں پناہ گزیں ہو گیا ہے۔ہماری گورنمنٹ کے بڑے بڑے جرنیلوں نے اپنی اپنی تقریروں میں ظاہر کیا تھا کہ جنگ اصل میں اس وقت ہوگی جس وقت ہم جرمن کے ملک میں گھسیں گے اور وہ مختلف قلعوں میں بیٹھے بیٹھے لڑائی کریں گے موجودہ جنگ جبکہ دشمن کھلے میدان میں مقابلہ کے لیے اپنی فوجیں لیے کھڑا ہے۔اس کی نسبت اسان ہے۔پس حضرت مسیح موعود نے مرکزی طور پر اور اصولاً تمام مذاہب کو شکست دیدی ہے۔لیکن خطرناک جنگ تو اس وقت ہوگی جس وقت ہر جگہ اور ہر مقام پر مقابلے ہوں گے۔ساری دنیا کو دلائل کے زور سے فتح کرنا ہے اور جب تک دنیا کو اسلام کے ماتحت نہ سے آویں ہمارا کام ختم نہیں ہوتا اور جب تک مخالفین اقرار نہ کرلیں اس وقت تک ہمارے لیے رکنے کا مقام نہیں۔پس جس قدر ہمارا کام زیادہ ہو گا۔مخالفت بھی زیادہ ہوگی اور وہ وقت آگیا ہے کہ ہماری ہر طرف سے سخت مخالفت ہو۔اور ہمیں ہر طرح تکلیف اور دُکھ دیا جائے۔اس وقت ہمارا کیا کام ہوگا۔اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ولما را المومنون الاحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله و رسوله وما زادهم الا ايماناً وتسلیما کہ جب مومنین نے اپنے مخالفین کو گروہ در گروہ دیکھا تو وہ اس نظارے اور مخالفت کے جوش اور دشمنوں کی تعداد سے گھرا نہیں تے بلکہ کہا کہ یہ تو وہی ہے جس کی اللہ اور اس رسول نے ہمیں قبل از وقت اطلاع دیدی تھی۔اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے کہا تھا وہ سب سچ اور حق ہے۔اور اس نظارے سے بجائے ایمان میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہونے کے وہ ایمان اور تسلیم می اور زیادہ بڑھ گئے مومن کی کیا شان ہے ؟ یہی کہ جوں جوں اس پر خدا کی راہ میں شدائد و مصائب کا زور ہو وہ اپنے قدم کو آگے ہی آگے بڑھائے۔اور ثابت قدمی سے ثابت کر دے کہ ایمان یہ چیز ہے۔بزدل آدمی کا قاعدہ