خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 66

۔۔پڑے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، لیکن یہاں خدا تعالی مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ جب مقابلہ پڑتا ہے اسی وقت ان کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ یہ موقع ہمارے لیے گھبرانے اور تشویش کرنے کا نہیں کیونکہ یہ حملے اور سختیاں تو خدا اور رسول کے فرمودہ کے بموجب ہیں۔پھر گھبرانے اور پریشان ہونے کی کیا وجہ ہے۔مصائب او را بتلامہ ہی جھوٹے اور پیچھے میں فرق کیا کرتے ہیں اور تکالیف میں ہی یہ حقیقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ حقیقی ایمان کس کا ہے اور کون ایمان سے خالی ہے۔یوں تو ابوبکر نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں اور نورالدین مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میں کبھی خود آگے بڑھ کر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ سر جھکاتے پیچھے بیٹھے رہتے تھے۔برخلاف اس کے عبداللہ ابن ابی ابن سلول رسول اللہ کے حضور اور وہ لوگ جو الگ ہو گئے ہیں مسیح موعود کے حضور آگے آگے ہو کر بیٹھتے تھے لیکن جنگ اور ابتلاء کے وقت میں کسی نے دیکھا کہ حضرت ابو کرینہ کہاں اور عبداللہ بن ابی کہاں تھا ؟ عبداللہ بن ابی تو حضور کو روکتا ہے اور کہتا ہے ، جنگ سے فائدہ ہی کیا مگر ابوبکر رضی الہ عہ نبی کریم کے آگے آگے ہیں۔پس جو بہا در آدمی ہوتے ہیں وہ وقت پر اپنے جوہر دکھلاتے ہیں اور جو بزدل ہوتے ہیں۔وہ اپنی چال تھال سے تو بہادری ظاہر کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے اس اظہار میں جھوٹے ہوتے ہیں۔وہ خطرہ سے پہلے ایمان ایمان کا شور مچاتے ہیں۔مگر جب خطرہ آتا ہے تو ایمان کو چھوڑ چھاڑ بیٹھتے ہیں۔ہاں وہ لوگ جو در حقیقت ایماندار ہوتے ہیں۔خطرہ سے پہلے خاموش رہتے ہیں اور جب خطرہ آجاتا ہے تو پھر جان تک لڑا دیتے ہیں پس بزدل اور ایمان میں کچے خطرے اور مصائب سے پہلے دعاوی بہت کرتے ہیں۔مگر وقت پر بودے نکلتے ہیں۔اور ایمان دار پہلے اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتے ہیں اور کوئی بڑائی کی بات نہیں کہتے۔بلکہ خطرے کے وقت ان سے کوئی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی۔تو جس قدر ابتلاؤں اور سختیوں میں شدت ہوتی جائے گی۔جو بچے ایماندار ہیں۔ان کے ایمان میں میں زیادتی ہو گی۔اور ان کی قربانیاں بڑھتی جائیں گی۔اور ان کو اور دین کی خدمت کا جوش ہو گا۔اور اخلاص بڑھتا چلا جائے گا اور جو کمزور ہوں گے وہ الگ ہو جائیں گے۔حضرت نظام الدین دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ ایک دفعہ رستہ میں چلے جارہے تھے اور مریدین ساتھ تھے۔راستہ میں ایک چھوٹا بچہ ملا۔آپ نے اس کا منہ چوم لیا۔تمام مرید جو ساتھ تھے انہوں نے بھی اس بچہ کا منہ چوما، لیکن آپ کے بعد جو آپ کے خلیفہ ہوتے۔وہ خاموش کھڑے رہے باقی مردوں نے ان پر نفاق کا فتویٰ لگایا۔مگر وہ خاموش رہے۔اسی طرح پھر حضرت نظام الدین راستہ میں پہلے جا رہے تھے۔کہ ایک بھٹیارہ آگ جلا رہا تھا۔آپ نے بڑھ کر اس آگ کو چوم لیا۔جو آپ کے