خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 522

۵۲۲ جو لوگ ایسا کہتے ہیں۔ وہ شاہی کلام کے آداب کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہ سکتا ہے۔ مگر ہم نہیں کہہ سکتے تم کبھی نبیوں کی زبان سے نہیں سنو گے کہ وہ کہیں گے کہ ہمارا امتحان لیا گیا۔ عربی زبان میں بتلاء کے دو معنی ہوتے ہیں۔ پہنچنا یا ہو جانا۔ مثلاً ایک عرب کو اگر بخار ہو جاتے تو وہ بخار کے لفظ کے ساتھ ابتلاء کا لفظ استعمال کرے گا۔ یعنی اس کو بخار ہو گیا۔ وہاں ابتلاء کے معنے آزمائش کے نہیں ہونگے۔ (۲) فضل اور انعام اور امتحان کے معنے ہوتے ہیں۔ یہ تعریف کا کلمہ ہوگا ۔ جو انسان اپنے لیے خود استعمال نہیں کر سکتا۔ دوسروں کی طرف سے ہو سکتا ہے ۔ تو بہت لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو ابتلاء کہ دیتے ہیں۔ مثلاً کوئی کہیں ملازم ہو۔ اس کے افسر ناراض ہو جائیں۔ یا کوئی احمدی ہو اور اس کا بیٹا بیمار ہو جائے تو وہ کہ دیگا کہ بڑا ابتلا آیا تھا مگر میں قائم رہا ۔ یا محلہ والے مخالفت پر آمادہ ہیں اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جائیداد خطرے میں ہے۔ یہ اقتلامہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایمان کے ادنی درجہ کے مقابلہ میں بھی ان تکالیف کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک مولوی کا قصہ سنایا کہ اس نے ایک عورت کا نکاح پر نکاح پڑھا دیا تھا ۔ جب اس کو حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب آپ نے یہ کیا گیا۔ تو اس نے جواب دیا کہ مولوی صاحب مجھ پر بہت ظلم ؟ پر بہت ظلم ہوا ہے اگر میں نکاح نہ پڑھاتا تو کیا کرتا ۔ مولوی صاحب کو خیال آیا کہ واقعی زمیندار لوگوں نے سختی کی ہوگی مجبوراً نکاح پڑھانا پڑا ہو گا۔ آپ نے پوچھا ، ہاں مولوی صاحب بتاؤ تو سہی ہوا کیا ۔ اس نے کہا کہ 'چڑے جڑا روپیہ میرے ہتھ تے رکھ دیتا ۔ نہ نکاح پڑھدا تاں کی کردا " یعنی چڑے کے برابر روپیہ میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اگر نکاح نہ پڑھتا تو کیا کرتا ۔ تم میں سے بہت سے اس مولوی پر ہنستے ہیں، لیکن تم میں بھی ہیں جو ایسی باتوں پر ابتلاء پکار اٹھتے ہیں اور ایسے خدا کے بندے ہیں۔ جو تمہاری ان باتوں پر ہنستے ہیں۔ بعض لوگ ہیں جو ذرا محکمہ والے جن کے ہاں ملازم ہوں ، ناراض ہوں ۔ تو کہتے ہیں۔ ہم ابتلاء میں پڑ گئے۔ محلہ داروں نے ذرا تکلیف دی تو ابتلاء ابتلاء پکار اُٹھتے ہیں۔ شہر والوں نے سختی کی۔ تو ابتلا پکارتے ہیں۔ بیٹا یا کوئی اور بیمار ہوا تو ابتلاء کا نام لیتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے فضل کے مقابلہ میں جو وہ دمبدم تم پر کر رہا ہے یہ معمولی تکالیف کہاں ابتلاء ہوسکتی ہیں۔ اور مومن کب ان کو خاطر میں لا سکتا ہے ۔ جب کہ آگ میں پڑنا بھی اس کو اس کی جگہ سے حرکت