خطبات محمود (جلد 6) — Page 522
۵۲۲ جو لوگ ایسا کہتے ہیں۔وہ شاہی کلام کے آداب کو نظر انداز کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ کہ سکتا ہے مگر ہم نہیں کر سکتے۔تم کبھی نبیوں کی زبان سے نہیں سنو گے کہ وہ کہیں گے کہ ہمارا امتحان لیا گیا۔عربی زبان میں ابتلاء کے دو معنی ہوتے ہیں۔پہنچنا یا ہو جانا۔مثلاً ایک عرب کو اگر بخار ہو جائے تو وہ بخار کے لفظ کے ساتھ ابتلاء کا لفظ استعمال کرے گا۔یعنی اس کو بخار ہو گیا۔وہاں ابتلاء کے معنے آزمائش کے نہیں ہونگے۔(۲) فضل اور انعام اور امتحان کے معنے ہوتے ہیں یہ تعریف کا کلمہ ہو گا جو انسان اپنے لیے خود استعمال نہیں کر سکتا۔دوسروں کی طرف سے ہو سکتا ہے۔تو بہت لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو ابتلاء کہ دیتے ہیں۔مثلاً کوئی کہیں ملازم ہو۔اس کے افسر ناراض ہو جائیں۔یا کوئی احمدی ہو اور اس کا بیٹا بیمار ہو جائے تو وہ کہ دیا کہ بڑا اعتبار آیا تھا مگرمی قائم رہا۔یا محلہ والے مخالفت پر آمادہ ہیں اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔جائیداد خطرے میں ہے۔یہ استلامہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایمان کے ادنیٰ درجہ کے مقابلہ میں بھی ان تکالیف کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک مولوی کا قصہ سنایا کہ اس نے ایک عورت کا نکاح پر نکاح پڑھا دیا تھا۔جب اس کو حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب آپ نے یہ کیا گیا۔تو اس نے جواب دیا کہ مولوی صاحب مجھ پر بہت ظلم ہوا ہے اگر یں نکاح نہ پڑھا تا تو کیا کرتا۔مولوی صاحب کو خیال آیا کہ واقعی زمیندار لوگوں نے سختی کی ہوگی مجبوراً نکاح پڑھانا پڑا ہوگا۔آپ نے پوچھا ، ہاں مولوی صاحب بتاؤ تو سہی ہوا گیا۔اس نے کہا کہ " چڑے جڑا روپیہ میرے ہتھ تے رکھ دیتا۔نہ نکاح پڑھدا تاں کی کردا " یعنی چڑے کے برابر رو پیہ میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔اگر نکاح نہ پڑھتا تو کیا کرتا۔تم میں سے بہت سے اس مولوی پر ہنستے ہیں لیکن تم میں بھی ہیں جوایسی باتوں پر ابتلا۔پکار اٹھتے ہیں اور ایسے خدا کے بندے ہیں۔جو تمہاری ان باتوں پر ہنستے ہیں۔بعض لوگ ہیں جو ذرا محکمہ والے جن کے ہاں ملازم ہوں ، ناراض ہوں تو کہتے ہیں۔ہم ابتلاء میں پڑ گئے۔محلہ داروں نے ذرا تکلیف دی تو ابتلاء ابتلاء پکار اٹھتے ہیں۔شہر والوں نے سختی کی۔تو ابتلا پکارتے ہیں۔بیٹا یا کوئی اور بیمار ہوا۔تو اتلامہ کا نام لیتے ہیں۔حالانکہ خدا کے فضل کے مقابلہ میں جو وہ دمبدم تم پر کر رہا ہے یہ معمولی تکالیف کہاں ابتلا ہو سکتی ہیں۔اور مومن کب ان کو خاطر میں لاسکتا ہے۔جب کہ آگ میں پڑنا بھی اس کو اس کی جگہ سے حرکت