خطبات محمود (جلد 6) — Page 521
۵۲۱ جاتے کہ وہ کیسے درجہ ایمانی پر پہنچا ہوا ہے۔دوسرا یہ کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ دیکھیو ہمارا مومن کیسا مضبوط ایمان والا ہے تو چھوٹے درجہ کے ایمان والوں کو جو اتبلا۔آتے ہیں۔وہ آگ میں ڈالنا تک ہوتے ہیں اور اس وقت بھی وہ حقیقت سے منہ پھیر نہیں سکتے۔اور دوسرے درجہ میں خود اس شخص کو یقین ہوتا ہے اور اسکے ایمان کا ذرہ خطرہ نہیں ہوتا ، لیکن دوسروں کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ بشخص ایمان کے اس درجہ میں ہے کہ تمہارا تکلیفیں دینا اس شخص کو ڈنگن گا نہیں سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذکر اور اُحد وغیرہ مقامات پر جو تکلیف پہنچی تھیں۔وہ اس لیے نہ تھیں کہ منافقین اور کفار پر انحضرت کے ایمان کی پختگی ظاہر کی جاتی یا خود آنحضرت کو آپ کے ایمان کا پتہ بتایا جاتا۔کیونکہ آپ کے ایمان کا پتہ تو غار حرا میں ہی لگ گیا تھا، بلکہ ان کی غرض یہ تھی کو دشمنوں کو آگاہ کر دیا جاتا کہ محمد صلی الہ علیہ وسلم ہمارا ایسا مقبول اور پیارا بندہ ہے کہ تمہارا اس کو تکالیف دینا اور تمارا اس کو شانا کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔تمہاری ہر قسم کی شرارتوں اور مظالم کے مقابلہ میں یہ بڑھے گا۔اور تم اس کے مقابلہ میں ناکام رہو گے۔گویا اس طرح تین طرح کے ابتدا ہوتے ہیں (1) کسی شخص کو خود اس کی ایمانی حالت سے آگاہ کرنے کے لیے (۲) دوسروں کو کسی کی ایمانی حالت کی عمدگی بتانے کے لیے (۳) تیری قسم کے ابتلاء جو انبیاء اور ماموروں اور ان کے نائبوں کے لیے ہوتے ہیں۔ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تا لوگوں پر ظاہر ہو جاتے کہ وہ خدا کے مقبولوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔خدا کے پیارے ہر میدان میں بڑھیں گے۔اور تمام مخالفتوں کے باوجود کامیاب ہو تجھے۔پس یہ تین قسم کے ابتلا م ہوتے ہیں اور چھوٹا اور بہت ہی کم درجہ ایمان کا جو بشاشت ایمان کہلاتا ہے اس کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ آگ میں پڑ کر بھی ایمان سے علیحدگی نہ کی جاتے ، لیکن اب یہ حالت ہے کہ بعض لوگوں کو اگر محلہ والے ذرا ستائیں۔تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ابتلا بہ میں پڑگئے۔حالانکہ اس و ابتلا و قرار دینا درست ہی نہیں۔لوگوں کو غلطی لگی ہوتی ہے کہ شالا قرآن میں آتا ہے کہ ہم نے دونوں کو آزمایا۔وہ کہتے ہیں جب خدا اس قسم کی تکالیف کو ابتلا ہ قرار دیتا ہے، تو ہم کیوں نہ کہیں لیکن یہ اس ہ۔ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص کسے کہ فلاں شخص کا مجھ پر احسان ہے اور میں شخص کے متعلق کہا گیا ہے وہ بھی۔ہی کہے کہ میرا فلاں : فلاں پر احسان ہے تو یہ اس کی بے شرمی ہوگی پس خدا تو کہ سکتا ہے کہ ہم نے ابتلا۔میں ڈالا۔مگر بندہ کا یہ حق نہیں کہ ان تکالیف کو اقتدار کے نام سے موسوم کرے۔دوسرا تعریف کرسکتا ہے۔اپنی تعریف آپ کرنا کبھی جائزہ نہیں ہو سکتا۔یا اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کسی کے متعلق کہے که زید صاحب تشریف لاتے ہیں اور زید بھی کہے کہ میں تشریف لایا ہوں۔تو یہ درست نہیں ہو سکتا۔یہ لایا کہ