خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 523

۵۲۳ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ خدا میرے ساتھ ہے۔لوگوں کا مومن کو تکلیف دنیا تو ایسا ہی ہے جیسا کر کوئی پیٹھ کے پیچھے کی کئے مگرہ مارے، لوگوں کا شور بجاتے اس کی حالت کو قابل رقم بنانے کے خود شور کرنے والوں کی حالت کو قابل رحم بناتا ہے کیونکہ جو شخص قطب صاحب کی لاٹھ پر بٹھا ہے یا قلعہ میں بیٹھا ہے۔اس پر کسی کا تھوک پھینکنا یا کنکر مارنا کچھ بھی موثر نہیں ہو سکتا۔ہاں تھوک پھینکنے اور کنکر مارنے والے کی حالت البتہ قابلِ رحم ہے۔پس جو شخص خدا کی گود میں ہو۔جیسا کہ مومن ہوتا ہے۔اس کے لیے یہ عمولی تکالیف کہاں ابتلاء ہو سکتی ہیں۔تم دیکھو کہ کبھی قطب صاحب کی لاٹھے پر بیٹھنے والا اور قلعہ نشین کسی کے تھوک پھینکنے یا گرو ڈالنے کو اپنے لیے ابتلاء نہیں کہے گا۔تو جو شخص خدا کی گود میں ہو وہ کب کہ سکتا ہے کہ میں ابتلاء میں ہوں یا تو اس کو اقرار کرنا چاہیئے کہ وہ خدا سے لیے تعلق ہے اور اس کی گود میں نہیں۔یا اس قسم کی باتوں کو ابتلا نہیں کہنا چاہیئے۔پس جو شخص خدا کو ماننے کا دعوی کرتا ہے۔اور کسی بڑے سے بڑے حادثہ پر بھی کہتا ہے کہ میں ابتلاء میں ہوں۔تو اس نے در اصل خدا کو نہیں مانا۔اس نے اسلام اور احمدیت کو نہیں سمجھا اُس کا دھوئی درست نہیں کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزا صاحب کو سچا مانتا ہے معمولی معمولی تکلیفوں اور دشمنوں کی شرارتوں کی فکر اس کو تب ہو سکتی ہے۔جبکہ اس میں ایمان کی کی ہو یا خدا کو مانتا تو ہو مگر یہ خیال ہوکہ و بیمار اور کمزور ہے میری مددنہیں کر سکتا۔ورنہ جوخدا پر پورا پورا یقین رکھتا ہے۔اس کی قدرت اور طاقت کا قاتل ہے۔وہ بھی ایسانہیں کر سکتا۔پس یقین کامل ہونا چاہیئے کہ ایمان کیا ہے اور الیسا ایمان ہونا چاہیئے کہ کوئی بڑی سے بڑی مصیبت ابتلا نہ کہلاتے۔کیونکہ اگر کوئی کسی تکلیف کو ابتلا سمجھتا ہے تو وہ ایمان کے اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچا۔پہلی منازل ہی طے کر رہا ہے۔ہاں خدا سے دُعا ہونی چاہیئے کہ وہ ہمیں ڈگمگانے سے بچائے۔بندے سے سوال نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ بچائے۔انسان یہ کسے خدا یا تیری مدد کا محتاج ہوں تیرے استغناء سے ڈرتا ہوں۔اس لیے تجھی سے کہتا ہوں کہ میری مددکر۔بی نکتہ ہے جو سورۃ فاتحہ میں بیان کیا گیا ہے وہاں مومن دعا کرتا ہے۔ایاک نعبد۔خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ریاک نستعین کبھی سے مدد مانگتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے والے کو اپنی طرح کے عاید تو نظر آتے ہیں۔مگر وہ جن سے خدا کے سوا مدد مانگے۔کوئی نہیں نظر آتا۔اس لیے مدد کے لیے مومن کی نظر میں خدا کے غیر کچھ ہے ہی نہیں۔صرف خدا ہی خُدا ہے جس سے مانگتا ہے پھر اھدنا الصراط میں کہتا ہے کہ میں میں رستہ پر ہوں اس پر سب چلنے والے ہی نظر