خطبات محمود (جلد 6) — Page 486
نیر پیت 91 WAY حرکت میں برکتہ فرموده ۲۳ جولائی ۱۹۲۰ حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسانی حالت بلکہ ہر ایک چیز کی حالت دو باتوں سے کبھی خالی نہیں ہوتی با تواوپر کو جاتی ہوگی۔ترقی کر رہی ہوگی یا تنزل کی طرف جارہی ہوگی۔ان دونوں حالتوں کے علاوہ کوئی تعمیری حالت نظر نہیں آتی۔وہ حالت جو کھڑی اور ٹھہری ہوتی کہلاتی ہے۔در حقیقت کوئی حالت نہیں۔قدرت نے انسان اور تمام موجودات میں حرکت رکھی ہے۔ہر ایک چیز کا ہلنا آگے کی طرف ہو گا یا پیچھے کی طرف کھڑی رہنے والی کوئی چیز نہیں۔جو چیز نہیں کھڑی نظر آتی ہے۔وہ ہماری نظر کی غلطی ہے۔ہم اس کی حرکت کو سمجھ نہیں سکتے۔ورنہ وہ ترقی کر رہی ہے ، یا تنزل۔ہر آن انسان ترقی کر رہا ہو گا یا تنزل۔یا کامیابی کی طرف جا رہا ہو گا۔یا ناکامی کی طرف۔یا علم حاصل کر رہا ہو گا۔یاجہالت کی طرف لوٹ رہا ہوگا۔باریک در باریک ذرائع سے اس کے اندر حرکت ہوتی ہے۔حتی کہ وہ خود نہیں سمجھتا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری شریعت نے بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دینا مقرر فرمایا ہے یہ بچہ اس وقت اس اذان کو نہیں سمجھتا۔مگر خالق فطرت جانتا تھا کہ یہ وقت ہے کہ اس میں ایک حرکت ہے جس کو یہ نہیں جانتا۔مگر وہ حرکت بُری بھی ہو سکتی ہے۔اچھی بھی۔اس لیے ایسی حالت میں ایک ایسی حرکت اسکو دی گئی ہے جو اچھائی کی طرف لے جانے والی ہے۔اس بات کو جہالت کی بات سمجھا جاتا تھا۔جب تک دنیا نے ان علوم کو معلوم نہ کر لیا۔بچہ کے کان کی اذان کو تم کہا جاتا تھا کین علوم نے نکل کر بتا دیا کہ یہ بات حکمت کی بات تھی اور یہی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سوا سال قبل خدا سے علم پا کر بتا دی تھی۔لے ابو داؤد کتاب الادب باب الاذان في اذن الصبي