خطبات محمود (جلد 6) — Page 487
پس یہ ایک مسلمہ اور ثابت شدہ بات ہے کہ انسان ہر وقت حرکت میں رہتا ہے۔وہ حرکت خواہ جمالت وہ کی طرف ہو، خواہ علمی میدان کی طرف اور اس کے اسباب و محرکات بھی ہوتے ہیں گو و منفی ہوں اور جن کو شخص جس میں تغیر ہو رہا ہے۔نہ جانتا ہو۔اور در حقیقت بعض اوقات وہ تغیرات اور وہ حرکات جو صادر ہوتی ہیں۔اس قدر باریک ہوتی ہیں کہ انسان ان کا پتہ ہیں لگا سکتا۔ہاں من ہے کہ اس قسم کے آلات نکال لیے جائیں جن سے اس تغیر کا پتہ لگ جایا کرے۔اگر غور کیا جائے۔تو معلوم ہو گا کہ ہم کھڑے نہیں تھے۔بلکہ ہل رہے تھے یا ہم تو کی طرف جارہے تھے۔ی تنزل کی طرف۔بدی کی طرف ہمارا قدم اُٹھ رہا تھا یا نیکی کی طرف پس جب ایسی حالت ہے۔تو ہم ہر وقت خطرے میں ہیں۔اس لیے بہر حال کوشش میں مصروف رہنا چاہیئے کہ کسی وقت نادانی سے آئے نہ پل پڑیں اور میں علم بھی نہ ہو۔جب دکھیں تو معلوم ہو کہ ہم منزل کی طرف جارہے تھے۔اور بغیر علم کے تباہی میں پڑ جائیں۔ضرورت ہے کہ ہوشیاری کے ساتھ آگے کی طرف قدم بڑھائیں۔پیچھے کی حرکت سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم آگے کی طرف جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم نے فرمایا کہ یو شخص ایک حالت پر رہتا ہے۔اس کا ایمان خطرے میں ہے۔کیونکہ مکن ہے توآگے کی طرف بڑھ رہا ہو یا پیچھے کی طرف جا رہا ہو۔اور اگر پیچھے کو ہٹ رہا ہو۔تو ایک وقت آئے اور اس کا ایمان ضائع ہو جائے۔ایمان کے بچانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ترقی کی طرف جا رہا ہو یس مومن کو گوشش کرنی چاہیئے کہ وہ ایمان اور اعمال میں ہمیشہ بڑھتا رہے۔ایک خاص امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَن تَنالُوا البر حتى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ۹۳) دنیا میں اعمال چند قسم کے ہوتے ہیں۔مالی قربانی جانی قربانی۔عزت کی قربانی۔دماغی قربانی۔وہ بھی جسمانی قربانی کا ایک حصہ ہے۔در اصل یہ تین ہی قربانیاں ہیں۔ملکی قربانی جسمانی قربانی عزت کی قربانی۔باقی تمام قربانیاں اس کے نیچے آجاتی ہیں۔ان میں سے جبیں قربانی میں کمی کی جائے۔اسی کی کمی کے باعث ذلیل ہونا پڑیگا۔ہماری جماعت بھی ایک خدمت عظیم کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔اس کا دعوی ہے کہ یہ دنیا میں ایک تغیر پیدا کر دیگی۔اس وقت ہماری مثال ظاہری نظروں میں ایسی ہے جیسی کہ اس جانور کی جورات کو ٹانگیں اوپر کر کے سوتا ہے۔جب اس سے پوچھا گیا، کہ تو اس طرح کیوں سوتا ہے۔تو اس نے جواب دیا کہ ساری دنیا تو سو جاتی ہے۔میں اس لیے اس طرح سوتا ہوں کہ اگر رات کو آسمان گر پڑے تو میں اس کو اپنی ٹانگوں پر اُٹھالوں۔اور لوگ نیچے سے نکل کر بچ جائیں۔یہ ایک لطیفہ ہے۔ہماری حالت اور اس میں فرق یہ ہے