خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 400

۰۰ دے دیا۔ تو پھر ضروری نہیں ہے کہ وقت بھی دیں ۔ اتنا ہی کافی ہے کہ کبھی کسی مولوی کو بلا کر وعظ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مولوی جن پر قرض ہو جاتا ہے ۔ وہ بمبئی وغیرہ مقامات پر چلے جاتے ہیں۔ اور وعظ کر کے روپیہ جمع کر لاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ دینے والے تو ان میں بھی ہیں۔ ہاں اگر کوئی فرق ہے تو یہی کہ وہ چندہ دے کر اس کے ساتھ یہ شرط لگاتے ہیں کہ ہم روپیہ تو دے دینگے لیکن اپنا وقت نہیں دینگے۔ مگر پیچھے مذہب کے پیرو اس قسم کی شرطیں نہیں لگایا کرتے۔ مومن کی علامت خدا تعالیٰ نے یہ بتاتی ہے ۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تحبون (آل عمران : ۹۳) کہ جو چیز سب سے قیمتی سمجھے۔ اسے خدا کی راہ میں قربان کرے۔ اگر کوئی روپیہ تو دے سکتا ہے، لیکن وقت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ تو اس سے وقت کا ہی مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ یا اگر امیر آدمی ہے ۔ اس کو غرباء سے مل کر بیٹھنا دو بھر معلوم ہوتا ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کسی قربانی چاہتا ہے۔ غرضکہ جو چیز کسی کو قیمتی معلوم ہو۔ وہی خدا تعالیٰ اپنے رستہ میں قربان کرنے کے لیے کہتا ہے اور مومن وہی ہوتا ہے جو ایسا کرتا ہے پس اشاعت دین کے لیے خدا تعالیٰ نے جمعہ میں بہت بڑا سبق رکھا ہے ۔ اور بتایا ہے کہ جب خدا نے اپنی عبادت کا آدھا وقت کم کر دیا ہے۔ تو تم کیوں اپنا وقت اس کام میں خرچ نہیں کرتے۔ مگر افسوس ہے کہ بہت لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ آج یہاں باہر سے بھی جماعتیں آتی ہوتی ہیں۔ وہ بھی میری مخاطب ہیں ، لیکن خصوصاً لاہور کی جماعت سے خطاب ہے ۔ وہ بتاتے کہ اس ہ بتائے کہ اس کے کتنے آدمی ہیں۔ جو تبلیغ دین کے لیے اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ اور ہر سال کتنے آدمی ان کے ان کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ۔ بہت لوگ اس خیال سے کہ ہمیں وسیع الاخلاق سمجھا جائے ۔ ان لوگوں کو جن سے وہ ملتے ہیں ۔ تبلیغ نہیں کرتے ۔ تاکہ ان کے متعلق ان سے ملنے والے کہیں کہ انہیں ہم سے ملتے دوبال ہو گتے ہیں، لیکن کبھی انہوں نے اپنے سلسلہ کا نام تک نہیں لیا۔ اور کبھی تبلیغ نہیں کی ۔ گویا وہ خدا اور اس کے رسول کو اس لیے قربان کرتے ہیں کہ انہیں وسیع الخیال کہا جائے ۔ پھر کئی لوگ ایسے ہیں، جو اپنے اوقات کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اشاعت دین میں لگایا ۔ تو ہماری تجارت یا پیشہ کے کاروبار میں نقصان ہوگا ۔ گویا وہ دین کی اشاعت کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ اس وجہ سے انہیں مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہتے کہ صداقت پر قائم رہنے اور خدا تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے پھر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ غیر احمدیوں کی طرح سمجھتے