خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 398

۳۹۸ باتیں گنے اور سیکھے توجمعہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ عادت ڈلوائی ہے۔ اور اپنے ماموروں کے زمانہ کے لیے تیار کیا ہے۔ اگر یہ سبق نہ دیا جاتا۔ تو دوسرے لوگوں کی طرح مسلمان بھی خدا تعالیٰ کے کسی خاص مامور کی باتیں نہ سنتے ۔ مگر با وجود اس کے کہ عام طور پر مسلمان دین سے دور ہو چکے ہیں۔ پھر بھی اوروں کی نسبت بہت زیادہ سنتے ہیں۔ مگر یہاں دوسروں کی نسبت سننے کا سوال نہیں ۔ سوال تو یہ ہے کہ جب مسلمانوں کو جمعہ کے دن یہ سبق دیا گیا تھا ۔ تو انہوں نے کیوں اسے بھلا دیا۔ اور وہ کیوں دوسرے سے نصیحت کی باتیں سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ سورۃ جمعہ میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ اس میں یہی حکمت ہے کہ تمہیں اس بات کے لیے تیار کیا جائے کہ آئندہ بھی ایک آواز آنے والی ہے۔ اس کو سنو۔ اور تم میں یہ عادت ڈالی جاتی ہے کہ دوسرے کے منہ سے آواز سن سکو ۔ اور اس کا انکار نہ کرو۔ جب تم جمعہ کے دن ایک امام مقرر کر کے اس کی باتیں سنتے ہو۔ خواہ وہ تمہارے نفس کے خلاف ہی کے ۔ تو پھر جو شخص ہماری طرف سے آ کر تمہیں کچھ سنائے ۔ اس کی باتوں کا انکار کیونکر کر ۔ کر سکتے ہو، لیکن جا ہو، لیکن حیرت ہے کہ تم جمعہ کے دن خود ایک ایسے شخص کو جو تم سے بعض دفعہ تقویٰ میں طہارت میں علم میں کم ہوتا ہے سنتے ہو۔ اور اس کی باتوں کو خوشی سے برداشت کرتے ہو مگر جویری طرف سے آتا ہے اس کی یا کی باتیں نہیں سنتے۔ گویا تم گویا تم نے خدا کو بندوں سے بھی ذلیل سمجھ لیا ہے ۔ کہ بندوں کے مقرر کردہ امام کی باتیں تو سنتے ہو۔ مگر خدا کے مقرر کردہ انسان کی باتیں نہیں سنتے۔ با تو جمعہ کے اندر یہ سبق دیا گیا ہے کہا۔ اپنے نفس کی اصلاح کے لیے دوسرے کی با کی باتیں سننے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔ کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو بہت دفعہ انسان کو اپنے متعلق دھوکہ لگ جاتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کو خود اپنے نفر ات انسان کو خود اپنے نفس کی کمزوری نظر نہیں آتی ، لیکن دوسرے کو نظر آجاتی ہے اور وہ اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلا دیتا ہے ۔ اس بات کو اگر مسلمان مضبوطی کے ساتھ پکڑتے اور اس پر کار بند ہوتے۔ تو ان میں کبھی تفرقہ نہ پڑتا۔ مگر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی دوسرا نصیحت کرے ۔ تو اس سے لڑنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنی عزت اور شان ظاہر کر رہے ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی نجاست کھا رہا ہو اور دوسرا اسے منع کرے ۔ نے کھا رہا تو وہ کسے تجھے کیا میں ضرور کھاؤں گا۔ تو کیا اس سے پیجھا جا ئیگا کہ وہ بڑا بہادر ا پر وہ بڑا بہادر اور بڑی عزت والا انسان ہے۔ یا یہ کہ وہ حد درجہ کا جاہل اور نادان ہے۔ اسی طرح و شخص جو نیکی کے متعلق نصیحت کرتا ہے ۔ اس سے لڑنا اور اُسے سخت دست کہنا کوئی عزت کی بات نہیں ۔ بلکہ جہالت اور نادائی کا فعل ہے۔ کیونکہ جب تک اُسے بُرائی کا علم نہ تھا۔ اس وقت تک اسکا اس میں مبتلا رہنا اور