خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 397

۔سے اصل میں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ اسے انسان تیری تعلیم اور تربیت اس قدر ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جمعہ کے دن اپنی عبادت میں سے نصف مجھے معاف کر دی ہے کہ جا اور جا کر اس وقت میں بھی حاصل کر۔وقت کے لحاظ سے عبادت کو نصف کر دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس سے یہ تی دیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک انسانی تعلیم و تربیت کی اس قدر اہمیت ہے کہ اس نے اپنی عبادت میں سے نصف کو اس کے لیے معاف کر دیا ہے۔تو جمعہ کے دن یہ بہت بڑا سبق دیا گیا ہے تر تعلیم دین اور اپنے نفس کی اصلاح کے لیے صرف اپنے اندر کی کوشش کافی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے باہر سے بھی بہت کچھ سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ بہت دفعہ انسان ایک بات سنتا ہے۔مگر اس کا اس پر کچھ اثر نہیں ہوتا لیکن کسی دن وہی بات جو دل پر پڑتی اور کچھ اثر نہ کرتی تھی۔اور وہی آواز جو کان میں گونجتی تھی۔مگر اندر داخل نہ ہوتی تھی۔وہی آواز دل کے اندر داخل ہو کر اسے نرم کر کے پکھلا دیتی ہے۔اور اندرونی آلائیشوں مثلاً بغض، حسد - عناد اور کینہ کو دور کردیتی ہے۔اور دل کو ایسا جلا کر دیتی ہے۔جیسے پیل کا برتن پالش کیا ہوا۔بلکہ اس کی صفائی کو آئینہ کی صفائی سے مشابہت دی جاسکتی ہے کہ وہ صرف آپ ہی صاف نہیں ہوتا۔بلکہ دوسروں کی غلطی اور خوبی کو بتا دیتا ہے۔تو دوسروں سے دین کی باتیں سنتے رہنا اور دوسروں کے علم سے فائدہ اُٹھانا نہایت ضروری چیز ہے۔دوسری نمازوں میں انسان کا اپنا نفس مخاطب ہوتا ہے مگر جمعہ کے دن ایک دوسرا آدمی اُسے وعظ سناتا ہے۔اور انسان کے اخلاق میں سے ایک خلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اندر دوسروں سے وعظ سننے کی قابلیت اور اہلیت رکھتا ہو۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے نفس کا وعظ تو سن سکتے ہیں، لیکن دوسروں کا نہیں سن سکتے۔دوسرا اگر ذرا سی بات کہے تو اس سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا کیا حق ہے کہ نہیں نصیحت کرے۔لیکن اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ بر ایک سچی اور اچھی بات تمہارے اندر سے تمہیں معلوم ہو سکے، بلکہ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ایک دفعہ جو بھی بات تم نے سنی ہو پھر اُسے نہ سنفور ممکن ہے ایک دفعہ کسی سے تم نے نئی بات سنتی ہو، لیکن اُسے بھلا دیا ہو۔یا یاد تو ہو، لیکن تم نے اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ہواپس ہر ایک انسان کے لیے اپنے اندر قابلیت پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ نیک بات دوسروں کے منہ سے نئے تاکہ خدا تعالے تھے لیے اپنے نفس کی قربانی کر سکے ہیں ایک ایسا شخص جو اور دنوں میں کسی دوسرے کے منہ سے وعظ و نصیحت نہیں سنتا یا نہیں سننا چاہتا ہے۔وہ مجبور ہے کہ جمعہ کے دن دوسرے کے منہ سے نصیحت کی