خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 321

۳۲۱ آتا۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نائب ہوتے ہیں۔ اور یہی انسان کے لیے اسوہ قرار دیتے جاتے ہیں۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ انسان کے لیے انسان ہی اسوہ ہو سکتا ہے۔ اگر خدا ہو تو بندہے کہ سکتے ہیں کہ وہ خدا اور ہم بندے ۔ خدا میں اور ہم میں کیا نسبت ؟ پس انسانوں کی ترقی کے لیے انسان ہی اُسوہ ہوتے ہیں اور وہ دو ہی بڑے وجود ہوتے ہیں۔ اول دین کو لانے والے اور دوسر سے دین کو قائم کرنے والے۔ قرآن کریم کے بعد شریعت نہیں۔ اب جو نبی آیا ۔ وہ اسی قرآن کریم کی شریعت کے قیام کے لیے جونہی آیا ۔ اور وہ مسیح موعود ہے ۔ اس کا وجود ہی ایک ایسا وجود ہے جس کے ذریعہ اتحاد ہو سکتا تھا۔ اور لوگ روحانی ترقیات کر سکتے تھے۔ یا تو وہ وقت تھا کہ ہر گفت گو میں وہ مسیح موعود کا نام لیا کرتے تھے ۔ یا آپ کو ایسا کرایا کہ کہدیا کہ کیا مسیح موعود ہی ہر چیز پر حاوی ہو گیا۔ مسیح موعود نے جو قرآن کریم کے معانی بیان فرماتے ۔ ان کے علاوہ معنے نہیں ہو سکتے ۔ یہاں تک تو درست ہے کہ اُستاد ایک فقر کی تشریح بیان فرمائے، اور اس کے علاوہ ایک اور صورت سے بھی اس فقرے کی تشریح ہو۔ اس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے۔ استاد نے بیان نہ کی ہو۔ کیونکہ بہت سی باتیں ہیں، جو انسان جانتا ہے ۔ لیکن سب بیان نہیں کر دیتا یا یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ انسان تمام علوم و نکات پر حاوی نہیں ہو سکتا ممکن ہے کہ استاد کے ذہن میں یہ بات نہ آتی ہو، لیکن یہ کہنا کہ استاد نے جو بات بیان کی ہے وہ غلط ہے اس کے مقابلہ میں جو بات ہم کہتے ہیں۔ وہ صحیح ہے ۔ یہ استاد کی ہتک ہے اور اس کی تکذیب ہے ۔ بے شک قرآن کریم کے فہم کا دروازہ کھلا ہے ۔ ہم اس بات کو اپنے علم اور فہم اور تجربہ کی بناء پرتسلیم کرتے قرآن کے ہم کا دروازہ ہے ہم اس بت اپنے علم اور ہیں کہ تم قرآن کا دروازہ کھلا ہے۔ ہم جن لوگوں کا ادب کرتے ہیں ۔ بہت سی باتیں انہوں نے بیان ی تھیں مگر ہماری مجھ میں آگئیں پس اس خیال کے یہاں تک تو ہم موید ہیں کہ ختم قرآن بند ہیں ہوا ۔ اور قرآن کریم کے مضامین ختم نہیں ہوتے۔ لیکن یہ کہنا کہ علم قرآن ختم نہیں ہوا ۔ اور اس فقرے کے یہ معنے لینے کہ مسیح موعود کے فلاں معنوں اور فلاں مسئلہ کے خلاف ہمیں سمجھ آتی ہے۔ یہ زیادتی علم نہیں۔ بلکہ مسیح موعود کی تکذیب ہے ہم کتنے ہی کہ جو کچھ مسیح موعود و فهم قر وعود کو فہم قرآن دیا گیا ۔ اس کی تائید میں زیادہ سے زیادہ مل سکتا ہے، نا ہے اور وہ اسکے مخالف نہیں ۔ مثلاً مسیح موعود نے سو مسکے بیان فرمائے ۔ اب ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو ان سو کے علاوہ گوان ایک اور مسلہ سمجھ میں آجائے اور یہ ایک سو ایک ہو جائیں ۔ اور اگر اسی طرح دس میں تھیں پچاس تک بھی مسائل کسی کی سمجھ میں آجائیں تب بھی مسیح موعود کے سو کے مقابلہ میں جزو ہیں۔ کیونکہ خدا سے جس قدر تعلق میں زیادتی ہوگی ۔ اسی قدر خدا تعالیٰ علم میں ترقی دیگا اور شاگردی کے لحاظ سے وہ مسیح موعود کے