خطبات محمود (جلد 6) — Page 322
۳۲۲ نیچے ہی ہو گا، لیکن اگر مسیح موعود کے مقابلہ میں ایک بات کا بھی دعوی کرے جس سے مسیح موعود کی کسی بات کا رد ہوتا ہو۔تو یہ غلط ہے۔اور ان کی یہ بات کہ سیح موعود پر ختم قرآن ختم نہیں ہوا۔ان کے اخبار میں بھی شائع ہو چکی ہے جس کے معنے انہوں نے یہ لیے ہیں، کہ مسیح موعود کے بیان کردہ مسائل کے مقابلہ میں ہیں مسائل متے ہیں۔اور مسیح موعود کے بیان کئے ہوئے غلط ہیں۔یا د رکھنا چاہتے کہ مسیح موعود کے مسائل میں زیادتی ہو سکتی ہے۔مثلاً جیسا کہ میں نے بیان کیا۔حضرت میسج موعود نے سو مسائل بیان کئے۔آپ کا ایک غلام ایک اور بیان کر دے جس سے ان کی تعداد ایک سو سے ایک سو ایک ہو جاتے، لیکن رد کر دینے میں وہ بات نہیں۔یہ مسیح موعود کی تکذیب ہے۔اسی نکتہ کونہ سمجھنے کی وجہ سے انھوں نے کہ دیاکہ میں موجود پر تم قرآن ختم نہیں اور اس کے یہ معنے لیے کہ مسیح موعود کے بیان کردہ بعض دینی مسائل قبیح نہیں ، مسائل دہی میں یہ لوگ غلطی پر قائم نہیں رہا کرتے۔مثلاً پیشگوئیوں میں بعض مخفی باتیں ہوتی ہیں ، لیکن آخر اللہ تعالیٰ ان پر انبیا کو آگاہ فرما دیتا ہے۔اس بات کو حضرت مسیح موعود نے بھی تحریر فرمایا کہ مامور پلے اپنی عقائد پر ہوتے ہیں۔جو عام طور پر لوگوں کے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے جو غلط ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ وفات سے پہلے ان کی غلطی پر ان کو آگاہ کر دیتا ہے پس انبیام۔وفات تک غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے۔عجیب بات ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مسیح موعود کی باتوں کو رد کرتے ہیں۔اور ہم حضرت صاحب کی تحریر کو منسوخ کرتے ہیں۔میرے نزدیک وہ شخص احمدی نہیں جو مسیح موعود کی کسی بات کو منسوخ ظھر اسے وہ احمدی ہونے کے دعوی میں جھوٹا ہے۔کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ مسیح موعود کی کسی بات کو منسوخ کرے۔اگر میں کر سکتا ہوں۔تو دوسرے بھی کر سکتے ہیں۔پس میں نے کہیں نہیں لکھا۔نہ کہیں یہ بات بیان کی ہے کہ میں حضرت اقدس کی فلاں تحریر کو منسوخ کرتا ہوں۔ہاں میں نے یہ لکھا ہے کہ حضرت اقدس نے اپنی فلاں بات کو منسوخ کر دیا۔اور یہ دونوں باتیں مختلف ہیں۔اور مسیح موعود کو حق ہے کہ وہ اپنی کسی بات کو منسوخ کر دیں کیونکہ خدا بھی اپنی باتوں کو منسوخ کر دیتا ہے۔کیا اس نے تورات کو منسوخ نہیں کیا۔خدا کے تورات کو منسوخ کرنے سے کوئی شخص یہ استدلال کرے نہیں بھی جو چاہوں۔منسوخ کر سکتا ہوں۔غلط ہے۔کیونکہ یہ کہنا کہ خُدا نے تو رات کو قرآن کریم سے منسوخ کر دیا اور ہے۔اور یہ کہنا میں منسوخ کر سکتا ہوں۔دوسری بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر لکھا ہے کہ میں ناصری بے پدر پیدا ہوتے اور خود ان کو اقرار ہے کہ اس بات پر آپ وفات تک قائم رہے، لیکن کہا جاتا ہے کرکیا قرآن کا علم میں موجود پر ختم ہو گیا۔اور اس کے یہ معنے لیتے ہیں کہ