خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 279

۲۷۹ مگر یہ ایک یاد رکھنے والی بات ہے کہ چھٹیاں جو کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک ہی وقت نہیں ہوتیں۔ بلکہ اور بھی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔ مثلاً ایک ایسا انسان جو تمام دن کام کاج میں مصروف رہتا ہے۔ اسے رات کو سونے کے لیے چھٹی ملتی ہے تا کہ چلنے پھرنے اور کام کرنے سے اپنے اعضاء کو فارغ کر دے۔ پھر تم تمام دن منہ کو کھانے پینے سے بند رکھتے ہو۔ اور جیسا کہ مختلف قوموں میں رواج ہے۔ ایک یا دو یا تین یا چار وقت تھوڑی دیر کے لیے منہ کو چھٹی دیتے ہیں کہ کھاتے پیتے۔ پھر ایک وقت تم مجلسوں میں خاص آداب اور قواعد کے ماتحت بیٹھتے ہو ، لیکن وہاں سے رخصت حاصل کر کے اپنے گھر میں جس طرح چاہتے ہو ۔ آرام کرتے ہو۔ یہ سب چھٹیاں ہیں، لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ۔ ساری چھٹیاں ایک ہی وقت نہیں شروع ہو سکتیں۔ مثلاً یہ نہیں ہو گا کہ جب مدرسہ سے چھٹی ہو۔ تو تم فوراً کیٹ جاؤ۔ اور مدرسہ سے جسقدر فارغ ہو۔ اس میں سوتے ہی رہو۔ بلکہ جب سونے کا وقت ہو گا جبھی سود گے ۔ یا مثلاً تم کہو کہ مدرسہ سے جو چھٹی ہوئی تو آؤ اس چھٹی کے سارے وقت میں کھانا ہی کھاتے رہیں۔ یہ لا یہ غلطی ہوگی کیونکہ یہ رخصت ہونے اور کھانے کے لیے نہ تھی ان کے لیے ایک اور وقت ہوگا یا مثلاً تم خیال کرو کہ مدرسہ سے چھٹی ہوئی ۔ تو آداب مجلس سے بھی چھٹی ہوگئی ۔ اگر ایسا خیال کرو گے تو غلطی کرو گے۔ کیونکہ ہر ایک چھٹی کے لیے ایک علیحدہ وقت ہے۔ اور تمام چھٹیاں ایک وقت میں شروع نہیں ہوئیں۔ یہ چھٹی جو مدرسہ سے ہوتی ہے۔ اس کی محض یہ غرض ہوتی ہے ۔ کہ وہ جو تم مدرسہ میں جاتے تھے اور استاد آ کر تمہیں پڑھاتے تھے اور اس کے علاوہ ایک اور بڑے وقت میں بھی تمہیں پڑھنا پڑتا تھا ۔ اور اس طرح تیرہ چودہ گھنٹہ تک تم پڑھا کرتے تھے ۔ اس سے تمہیں فارغ کیا جائے۔ اور اب اُستاد تمہیں پڑھنے کے لیے مجبور نہیں کرینگے ۔ اگر گھنٹی بجے تو بے شک مدرسہ میں نہ جاؤ اور کہو کہ چھٹیاں ہیں، لیکن اس چھٹی کے یہ معنے نہیں کہ دنیا کے تمام کاموں سے تمہیں چھٹی ہو گئی ۔ پھر دنیا میں دنیا کے کاموں سے تو کسی نہ کسی وقت چھٹی مل سکتی ہے۔ مگر دین کے کاموں سے دنیا میں چھٹی مل ہی نہیں سکتی یہی دیکھ لو۔ سکول میں باقاعدہ حاضر ہو کر پڑھنے اور محنت کرنے سے تمہیں بھٹی مل گئی۔ مگر تمہارے ہیڈ ماسٹر نے تمہیں نماز اور دوسرے دین کے احکام بجا لانے سے چھٹی نہیں دی۔ اور اگر کوئی ایسا ہیڈ ماسٹر ہو۔ جو کسی دینی کام میں چھٹی دے۔ تو وہ تمہارا ہمدرد نہیں بلکہ دشمن ہے۔ تمہیں نہ کوئی نمازہ اور دیگر دین کے احکام کی پابندی سے چھٹی دے سکتا ہے۔ اور نہ کسی کے اختیار کی یہ بات ہے ۔ ہیڈ ماسٹر یا انجمن جس کو بھی ایک خاص اتھارٹی حاصل ہے وہ رخصت دیتی ہے۔ مگر صرف اسی کام میں جوان کا ہے۔ ان فرائض کے سوا وہ دینی احکام کے