خطبات محمود (جلد 6) — Page 280
متعلق کچھ بھی نہیں کہ سکتے۔کیونکہ ہر ایک کام الگ الگ طریق پر چلتا ہے۔مثلاً قانون قدرت ہے کہ انسان کو نیند آئے، لیکن جب نیند سے چھٹی ملتی ہے۔تو پھر کوئی ہیڈ ماسٹر سلا نہیں سکتا۔وہ قانون جو خُدا نے بنایا ہے۔اس کے خلاف تمام ہیڈ ماسٹر نہیں سلا سکتے۔کوئی انجمن سلا سکتی۔ہاں قانون قدرت ہی ہی سکلا سکتا ہے۔اسی طرح اور چھٹیاں ہیں۔ہر ایک مدرسہ کے لیے جدا جدا ہیڈ ماسٹر ہیں۔پس تمہیں چٹھی مدرسہ احمدیہ یاتعلیم الاسلام ہائی سکول میں جو پڑھائی ہوتی ہے۔اس سے ملتی ہے لیکن اسلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدرسہ ہے۔اس کے احکام سے چھٹی نہیں ملتی۔اس مدرسہ کے بانی محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ ولم ہیں اور اس میں نئے سرے سے اصلاح کرنے والے اور ان سقموں کو دور کرنے والے جو مدرسین کے ذریعہ پیدا ہو گئے۔اور اس کے طالب علموں میں جو نقائص آگئے تھے حضرت مسیح موعود ہیں۔مگر یہ کالج جو ہے یہ کسی انجمن کے سپرد نہیں۔اس کے پہلے پر نسپل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن آپ کو بھی اس کے قواعد بنانے میں کوئی اختیار نہیں۔کیونکہ یہ وہ یونیورسٹی ہے۔جس کے تمام اصول و قواعد و احکام خدا کی طرف سے آتے ہیں۔پس اس کالج کے پرنسل کو بھی یہ اتھارٹی حاصل نہیں کہ وہ اس کے اصول و قواعد میں تغیر کر سکے۔کیونکہ اس کے اصول و قواعد تمام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔فروعی باتوں میں ان خلاقی اصول کے ماتحت خدا کے رسول کچھ کر سکتے ہیں۔مگر اصول میں نہیں۔پس ان احکام میں نہ آنحضرت صلی الہ علیہ وآلہ وسلم جوکہ پہلے پرنسپل تھے کچھ تغیر کر سکتے تھے مسیح موعود کو یہ کرسکتے اختیار تھا کہ وہ ان احکام کو بدل سکیں۔اور بالآخر اسلامی شریعت کے انتظام کے ماتحت خلیفہ کی بھی ایک بڑی پوزیشن ہوتی ہے۔اس کو بھی اس کا اختیار نہیں کہ وہ کچھ کمی بیشی کرسکے اور ایک انچ ان احکام سے ادھر ادھر ہو جائے۔بلکہ جس طرح تم پابند ہو شریعیت کے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم کے اسی طرح خلیفہ بھی پابند ہے۔اس کو جو درجہ حاصل ہے۔وہ محض یہ ہے کہ ان احکام پر لوگوں کو چلائے۔اسے یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ بدل دے۔یہ ورثہ اس کو اعلیٰ حکام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود سے ملا ہے یہیں اس مدرسہ کے قانون اور رنگ رکھتے ہیں۔تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ چھٹیاں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول سے ہیں۔اسلام کے مدرسہ سے چھٹی نہیں ہوئی۔اور نہ کوئی دے سکتا ہے ان چھٹیوں میں اجازت ہے کہ تم اپنے سبھوں کو چھوڑ دو مگر یہ نہیں کہ نمازوں کو بھی چھوڑ دو۔یہ اجازت ہے کہ اپنے اوقات کو کھیل کود میں صرف کرد۔مگر یہ اجازت نہیں کہ بداخلاقی اور آوارگی اختیار کرو۔اور پھر یہ بھی اجازت ہے کہ اگر کوئی گھنٹی بجے۔تو تم مدرسہ میں نہ جاؤں، لیکن یہ نہیں کہ مسجدوں میں گھنٹی رازان مراد ہے، مرتب ہو تو نہ جاؤ۔