خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 278

اس طرح کروں۔تومیں اس کے بعد ایک مہینہ تک بات بھی نہ کر سکوں۔تو ایک طالب علم سارا دن اور رات کا بہت ساحصہ جتنا بولتا ہے۔بڑا آدمی اتنا نہیں بولتا۔اور پھر جب امتحان کے دن قریب ہوتے ہیں تو اس محنت میں اور بھی زیادتی ہو جاتی ہے۔یہ محنت جو طالب علم کرتا ہے اس سے جسمانی طاقت پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ جسمانی طاقت میں کمی آجاتی ہے۔مختیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک دماغی اور ایک جسمانی۔دماغی منتیں وہ ہوتی ہیں جن سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، لیکن جسمانی محنتیں وہ ہوتی ہیں جن سے جسم میں کمزوری پیدا نہیں ہوتی طالب علم کی محنت ایک ایسی محنت ہوتی ہے جس سے اس کے اعضاء میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے لیکن زمیندار جو محنت کرتا ہے۔ہل چلاتا ہے۔اس کے باعث وہ کمزور نہیں ہوتا۔بلکہ اس کی طاقت میں ترقی ہوتی ہے اگر طالب علم کی محنت جسم پر خلاف اثر ڈالتی ہے۔مثلاً حافظہ کے لیے منہ سے بولنا ضروری ہے۔آنکھوں سے دیکھتا۔کانوں سے سنتا ہے جن لوگوں نے قوت حافظہ پر غور کیا ہے۔اور اس کی تحقیقات کی ہے۔ان کا بیان ہے کہ اس طرح چونکہ تین قوتیں کام کرتی ہیں۔اس لیے جو کچھ یاد کرنا ہوتا ہے۔وہ بہت جلد یاد ہو جاتا ہے۔بچے اس قاعدہ کو خوب استعمال کرتے ہیں۔یہ ایک سخت محنت ہوتی ہے۔مگر ایسی محنت نہیں جس سے طاقت پیدا ہوتی ہو۔بلکہ اس سے کمزوری پیدا ہوتی ہے۔اور کمزوری کو دور کرنے کے لیے کچھ عرصہ کے لیے بچوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس وقفہ کو ہماری زبان میں چھٹیاں کہتے ہیں۔ان چھٹیوں سے غرض یہ ہوتی ہے کہ اس عرصہ میں آرام کر کے بچے پھر محنت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔جو طالب علم ان چھٹیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہ آئندہ محنت کے برداشت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہیتے کران ایام میں پڑھائی کو بالکل چھوڑ ہی دیا جائے کیونکہ بالکل چھوڑ دینا جو کچھ پڑھا ہو اس کو بھلا دینے کا با باعث ہوتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ صبح یا شام ایک آدھ گھنٹہ پڑھنے میں لگایا جائے اور باقی وقت آرام کیا جاوے تا کہ دماغ مضبوط ہو جاتے۔اور وہ کمی جو سال بھر کی محنت سے پیدا ہوگئی ہو۔دور ہو جاتے۔اور پھر زیادہ سے زیادہ محنت کر سکے۔پس چھٹیاں ایک اہم چیز ہیں۔اور دنیا کی کسی قوم نے خواہ وہ متمدن ہو یا غیر تمدن - ابتدائی حال میں ہو یا انتہائی میں چھٹیوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا۔پس یہ ایک ضروری امر ہے جس کے بغیر گزارہ نہیں رہی تعلیم ہے۔جو بچے مدرسوں میں استادوں سے اور دوسرے ہمدرد نصیحت کر نیوالوں سے سنتے ہونگے