خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 209

۲۰۹ بہت ہیں جو اس کو استعمال نہیں کرتے۔ اور وہ ہتھیار جو ہمیں دیا گیا ہے دُعا کا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اور ہم میں طاقت نہیں کہ ہم اپنے دشمن کے حملوں سے بچ سکیں لیکن ہمیں ایک ایسی ہستی نے کھڑا کیا ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا جس طرح یہ یقینی ہے۔ کہ ہم کسی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس سے کہیں زیادہ یہ بات یقینی ہے کہ جس نے ہمیں کھڑا کیا ہے اس کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ اس لیے جہاں ہم جیسا کوئی بے کس اور بے بس نہیں ہے ۔ وہاں روحانی طور پر ہم سے یادہ طاقتور کوئی نہیں ہے ۔ اگر ایک طرف ہم ساری دنیا کا نشانہ ہیں۔ تو دوسری طرف ساری دنیا ہمارا شکار ہے اگر تمام دنیا ہمیں روند ڈالنا چاہتی ہے تو دوسری طرف امید ہے کہ تمام دنیا پر ہم ہی ہم ہونگے۔ جنگ و جدل سے نہیں بلکہ روحانی طور پر کیونکہ میں وہ طاقتیں اور قوتیں دی گئی ہیں جس کا مقابلہ کوئ نہیں کرسکتا لیکن افسوس اس کا ہے کہ بہت کم ہیں۔ جوان قوتوں اور طاقتوں اور ہتھیاروں کو استعمال کر کرتے ہیں بہت ہیں جو سستی اور بے ہمتی کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جس نے ہمیں کھڑا کیا ہے ۔ اس میں طاقت ہے ۔ میں نے ایک دفعہ ایک رویا ۔ دیکھی کہ ایک بہت بڑا اثر رہا ہے۔ اور وہ تمام دنیا میں پھرتا ہے اور جو اس کے سامنے آتا ہے وہ اُس کو کھا جاتا ہے ۔ لوگوں میں بہت خطرہ پھیلا ہوا ہے ۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ میں ایک جماعت کے آگے ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک عصا ہے۔ میں نے دیکھا که دو آدمی اس اثر دھا کے آگے آگے بھاگے بھاگے جاتے ہیں ۔ مگر وہ اثر رہا اس قدر تیز دوڑتا ہے، کہ ان آدمیوں اور اس کے درمیان کا فاصلہ دم بدم کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر میں اس کو مارنے کے رقت لیے دوڑا ہوں۔ اور خدا نے مجھ کو توفیق دی ہے کہ میں نے قریب پہنچکر سوٹا اُٹھانا چاہا۔ اسی است میرے ذہن میں یہ حدیث آئی کہ لَا يَدَ انِ لِأَحَدٍ لِقِتَا لھا ۔ یہ یا جوج ماجوج کے متعلق ہے کہ کسی میں طاقت نہ ہو گی کہ وہ ان کا سامنے سے مقابلہ نابلہ کی کر کر سکتے ہیں جب ان ان - کے مقابلہ کی طاقت ہی نہیں۔ تو له پھر میں کیسے مقابلہ کر سکتا ہوں ۔ مقابلہ کر سکتا ہوں۔ یہ خیال میرے ذہن می آیا ہی تھا کہ وہ اژدھا میری طرف پلٹا اور چاہا کہ مجھے پر حملہ کرے۔ میں نے دیکھا کہ ایک چارپائی پڑی ہے جس کی لکڑیاں سلامت ہیں مگر وہ بنی ہوئی نہیں جونی کہ اس نے مجھ حملہ کیا میں کو دکر اس چار پائی کی پاٹیوں پر چڑھ کر کھڑا ہو گیا اور ایسا ہوا کہ میں اژدھا کی پیٹھ پر پہنچ گیا۔ پہنچ گیا ۔ اور میں نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھاتے ۔ اب میرے ذہن میں یہ بات یہ بات آئی کہ حدیث میں تو یہی بات آتی ہے کہ کوئی ہاتھوں سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہمیں بھی اس کا مقابلہ ہاتھوں سے اه مسلم بحواله مشكوة كتاب الفتن باب العلامات بين يدى الساعة