خطبات محمود (جلد 6) — Page 210
نہیں کرتا میں تو دکھا کرتا ہوں پیں حدیث میں تو آپنےسامنے مقابلہ کے لیے کیا گیا ہے۔میں نے دُعا کرنی شروع کی وہ تڑپنے لگا اور مُردہ ہو کر گر پڑا۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہم ہر طرف سے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔اور خطرناک دشمن ہمارے ہر طرف ہیں اور اس کے مقابلے کے ظاہری سامان ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔پھر جو شکلات زمانہ در پیش ہیں۔اور ہم جن جن مشکلات میں سے گزر رہے ہیں۔ان کی حد نہیں۔جدھر دیکھتے ہیں گڑھا نظر آتا ہے۔مندہی ضروریات ہمیں کھینچتی ہیں کہ ہماری تمام تر توجہ اشاعت کی طرف ہونی چاہیئے۔اور اشاعت میں لگ جائیں اقتضاء دین یہ ہے کہ ہم ساری توجہ ادھر لگا دیں، لیکن سیاسی حالت آجکل ملک کی چاہتی ہے کہ ہم اپنی توجہ کو ادھر پھیر دیں اور کوشش کریں کہ ملک ان مشکلات میں سے نکل جائے۔اور وہ ایسی مشکلات ہیں جن کے باعث ہماری اشاعت میں بھی روک پیدا ہوتی ہے۔ہم منافق نہیں ہیں کہ ادھر تو گورنمنٹ کو کچھ کہیں ادھر ملک کے لوگوں کے پاس گورنمنٹ کے خلاف باتیں کریں۔یا ہمیں یہ خواہش نہیں کہ ہمیں اس طرح گورنمنٹ میں بھی نیک نامی حاصل ہو اور لوگوں میں بھی۔گورنمنٹ سامان رکھتی ہے۔فوجیں رکھتی ہے۔اس لیے یہ اپنے مخالفوں کو اپنی طاقت کے بل پر دبا سکتی ہے اور وہ لوگ جو ہمارے مخالف میں بڑے جتھے رکھتے ہیں۔اگر ان میں سے بعض کو پکڑ لیا جائے تو دوسرے ان کی جگہ کھڑے ہو سکتے ہیں ہماری حالت نازک ہے ، نہ ہم جتھا رکھتے ہیں۔نہ ہمارے پاس فوجیں ہیں نہ ہم گورنمنٹ کے خلاف چلنے والوں اور بغاوت کر نیوالوں سے مل سکتے ہیں۔نہ ہم منافقت سے ان کو خوش کر سکتے ہیں۔کیونکہ ہمارا مذہب ہمیں ایسے لوگوں سے علیحدہ رہنے کا حکم دیتا ہے اور ہمارا ہادی اور رہنما جس نے اس وقت نہیں خدا کی طرف بلایا۔اس نے نہیں حکم دیا ہے کہ ہم بغاوت نہ کریں اور گورنمنٹ کی وفاداری اور خیر خواہی کریں کیونکہ خدا نے اس کو اس سلطنت کے ماتحت اس لیے پیدا کیا تھا کہ یہ سلطنت تمام موجودہ سلطنتوں سے بہتر اور اچھی سلطنت ہے ہیں ادھر تو ہماری مذہبی تعلیم ہمیں حکم دیتی ہے کہ ہم کسی قسم کی شورش سے تعلق نہ رکھیں اور گورنمنٹ کے وفادار رہ ہیں۔ادھر ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم منافقانہ طور پر لوگوں کو بھی خوش کر سکیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مذہبی فرض ہے، لیکن نہیں لوگ تکلیفیں دیتے ہیں اور ساتھ ہی یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دشمن جو ہم سے زیادہ ہیں ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے گونٹ کو غلط رپورٹیں دیتے ہیں۔پہلے وفاداری سے لوگوں سے دُکھ پایا۔اب انباء وطن کی جھوٹی شکایتوں