خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 167

144 32 ایام جلسہ میں احباب قادیان کے فرائض د فرموده ۲۸ فروری شته ) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت اب کے ہمیں دسمبر کے ایام میں جو ہمیشہ جلسہ کے لیے مقرر ہوتے ہے میں جلسہ کو ملتوی کر کے بعد کی کسی تاریخ پر اٹھا رکھنا پڑا تھا ۔ اب غور و فکر اور مشورہ کے بعد یہی مناسب سمجھا گیا کہ جلسہ مارچ کے دنوں میں ہو۔ کیونکہ اپریل کی نسبت زمیندار مارچ میں زیادہ فارغ ہوتے ہیں چونکہ اس سالانہ اجتماع میں چاروں طرف سے لوگ آتے ہیں اور خدا کے فضل سے اس کثرت سے آتے ہیں کہ بیاں والوں کو انتظام میں مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے میں اپنے سب احباب کو متوجہ کرتا ہوں کہ انتظام کے لیے صرف و ہی لوگ کافی نہیں جن کے سپرد دوران سال میں یہ کام ہوتا ہے اور نہ صرف مدرسوں کے طالبعلم کافی ہوتے ن دورا ہیں۔ گو جلسہ کے ایام میں زیادہ تر کام کا بارہ دونوں مدرسوں پر ہی پڑتا ہے یعنی دونوں مدرسوں کے طالب علم اور مدرس کام کرتے ہیں۔ مگر ان کے سوا دوسرے لوگوں کے سپر د بھی کام ہوتا ہے ۔ میرے نزدیک سوائے چند دوکانداروں کے جن کا یہ وقت ہوتا ہے کہ وہ کچھ خرید و فروخت کر پیس وہ معذور ہیں۔ جہاں تک ہوسکے دوسرے تمام احباب کا فرض ہے کہ وہ منتظموں کا ہاتھ بٹائیں۔ تاکہ باہر سے آنے والوں کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو۔ ہر شخص کو بھی نہ کبھی مہمان بننا پڑتا ہے اور وہ جان سکتا ہے کہ سفر میں کس قدر تکلیفیں ہوتی ہیں۔ سفر کا صحت پر بہت اثر پڑتا ہے کیونکہ صحت کے قیام کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے میسر آنے میں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے ۔ کھانا اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا کہ جو صحت کے مناسب غذا ہو وہ کھائیں۔ پھر اکیلے دو کیلے میں ایسی غذا کا بھی انتظام ہو سکتا ہے مثلاً کوئی شخص کسی کے ہاں جاتا ہے تو وہ اس کی خاطر کئی قسم کے کھانے مہیا کر دیتا ہے، لیکن ان اجتماعوں میں کئی ! میں کئی اقسام کا کھانا نہیں مل سکا۔ ایک ہی قسم کا کھانا ہوتا ہے کیسی وقت دال کسی وقت شور بار