خطبات محمود (جلد 6) — Page 98
٩٨ 18 دین کے لیے زندگی وقف کر نیکی تحریک د فرموده ۲۰ ر ستمبر ۱۹۱۷ تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ آل عمران کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: وَلْتَحْنُ مِنْكُمُ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ المُنكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔( آل عمران : (۱۰۵) قریباً ایک سال اس معاملہ پر گذرا ہے کہ میں نے ایک خطبہ جمعہ میں اس بات کی تحریک کی تھی کہ ہماری جماعت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں جو دین کے لیے زندگیاں وقف کریں اور مناسب تعلیم حاصل کر سکے ایسے ذرائع حاصل کریں کہ جن سے کچھ اپنی معیشت کا سامان قوت لایموت کے لیے کر سکیں۔اور باقی وقت میں خدا کے دین کی اشاعت کریں۔ان کو جس ملک میں بھیجا جائے۔جائیں اور اس میں انھیں کوئی عذر نہ ہو۔جب اور جس حالت میں بھی انھیں حکم دیا جائے۔وہ فرمانبرداری کے ساتھ چلے جاتیں خواہ ان حالت دیا۔وہ کے دنیاوی کامیوں میں اس سے کیسی ہی ابتری پیدا ہو۔میری اس تحریک پر چالیس پچاس درخواستیں میرے پاس آئیں۔ایسی پران لوگوں کو جو درخواستیں دینے والوں میں سے قادیان میں تھے جمع کیا گیا۔اور وہ ذمہ داریاں ایک ایک کر کے انکو سمجھائی گئیں جو جمع ان پر عائد ہوتی تھیں۔ان ذمہ داریوں کو شنکر بہت سے لوگوں نے اپنے نام کو واپس لینا مناسب سمجھا اور نبی غرض بھی تھی کیونکہ مکن تھا وہ زندگی وقف کرنے کے معنی پہلے کچھ اور مجھتے۔اور بعد میں انھیں شکل پیش آتی۔اس لیے پہلے ہی ان کو ذمہ داریاں سمجھائی گئیں۔اور بتایا گیا کہ زندگی وقف کرنا کیا ہے؟ اپنی خواہشات پر ایک موت وارد کرنا ہو گی۔اب مشورہ کر لو پھرکسی سے کوئی مشورہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔بعد میں اگر ماں باپ۔عزیز و اقارب منع بھی کریں تب بھی حکم کی اطاعت کرنا پڑیگی۔اس کے نتیجہ میں نام پیش کرنے والوں میں سے اکثر نے استخارہ وغیرہ کرنے کے بعد اپنے ناموں کو واپس لے لیا اور