خطبات محمود (جلد 6) — Page 99
49 جو تنہائی کے قریب باقی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو دین کے لیے باوجود ان دقتوں کے سامنے ہونے کے وقف کرنا چاہا۔ان کو میں نے چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ایک تو وہ تھے جن کو ہم نے نہیں سکتے تھے۔کیونکہ ہ کسی نہ کسی وجہ سے اس قابل نہیں تھے یا ان کو یہ کام دیا نہیں جاسکتا تھا۔باقی کے تین حصوں میں سے ایک کے تویہ پر کیا کہ وہ مرکزہ ہی میں رہیں۔اور انکو دینی علوم پڑھانے کی خدمت سپرد کی۔کہ وہ ان لوگوں کو پڑھائیں۔جنہوں نے خدمت دین کے لیے وقف ہونے کی درخواست کی ہے اور ایک حصہ جو ابھی اس قابل نہیں تھا کہ باہر بھیجا جا سکتا۔اسکو کام پر نہیں لگایا گیا۔جب موقع ہوگا۔دیکھا جائیگا۔اور تیر حصہ وہ تھا جس کو آگے کچھ تعلیم لانا ضروری تھی۔اور یہ کہ اپنی تعلیم کوجاری رکھیں اور معلومات کو وسیع کر سکیں۔ان کو بعد میں ہم کام پر لگا سکیں گے۔اس حصہ میں چودہ پندرہ شخص تھے ان میں سے بھی آہستہ آہستہ کم ہو گئے۔اس وقت قریب ۱۰ آدمی باقی ہیں جن میں سے پانچ ایسے ہیں جن کو کالجوں میں تعلیم دلائی جارہی ہے۔وہ وہاں سے فارغ ہو کر کام پر لگائے جائیں گئے۔چنانچہ جو کالج میں ہیں ان میں سے تین ڈاکٹری میں پڑھ رہے ہیں۔ایک بنگال میں دو لاہور میں اور تین کو اس جگہ تعلیم دین دلاتی جارہی ہے۔جو لوگ کالج میں ہیں ان کے متعلق اس وقت معلوم ہو گا جب وہ فارغ ہونگے کہ وہ اس وقت اپنے عہد پر قائم رہے ہیں یا نہیں اور ان کے خیالات میں کسی قسم کا تغیر تونہیں ہوا۔یہ وگ جن کوہم تعلیم و رہے ہیں۔ان میں سے چند ایسے ہیں جن پر ہمیں کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے باقی سب اپنے خرچ سے تعلیم اصیل کر رہے ہیں۔جو لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں خدا جانے بعد میں وہ ہیں کہ دیں کہ ہماری مدت تین سال ختم ہوگئی ہے بر حال ان کا حال بعد میں معلوم ہوگا کہ وہ کالج کی تعلیم کے بعد نوکری کرتے ہیں یا بعض مشکلات کا خیال کرگئے اپنے اس خیال کو چھوڑتے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس نیک ارادے اور نیک نیتی کے باعث ان کو اپس خدمت دین کے ارادے میں کامیاب کر گیا۔میں نے تین سال کے لیے زندگی وقف کرنے کا عہد لیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ممکن ہے ان میں سے بعض زیادہ تکلیف محسوس کر کے اس کو چھوڑنا چاہیں۔اور اس طرح وہ خدا کے گنہ گار ٹھریں۔اور منافق نہیں۔اس لیے میں نے تین سال کے لیے عہد لیا تھا کہ اگر کسی میں کچھ کمزوری بھی ہوگی۔اور وہ ان تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتا ہوگا۔تین سال گذار دے پھر چاہے چھوڑ دے۔ورنہ دین کے لیے تین سال کیا ساری عمر کے لیے زندگی وقف کرنے کی ضرورت ہے۔یہ