خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 11

ایمان ہے۔اسلام کوئی انجمن یا سوسائٹی نہیں اور احمدیت بھی چونکہ اسلام ہی ہے اس لیے یہ بھی کسی انجمن اور سوسائٹی کا نام نہیں ہے اور عہدوں کا سوال سوسائٹیوں اور انجمنوں میں ہوا کرتا ہے۔نہ کہ مذہب میں۔مذہب کا ہر کام خدا کے لیے ہوتا ہے۔پس جو خدا کے لیے کام کرتا ہے۔اُسے اس بات کی کیا پرواہ ہے کہ فلاں انجمن یا سو سائٹی اسے کوئی عزت اور عمدہ دیتی ہے یا نہیں۔کیا وہ خُدا سے ملنے کی کچھ امید نہیں رکھتا کہ کسی انجین یا سو سائٹی سے عمدہ اور عزت چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلتُكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شينا۔اگر تم اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال میں کوئی کسی نہیں کرے گا کہ تمہیں بندوں سے مانگنے کی ضرورت ہو اور دین کا کام کر کے ان پر احسان خلاؤ کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ہماری عزت نہیں کی جاتی۔ہمیں عہدے نہیں دیتے جاتے۔کوئی کہے کہ یہ معنی کہاں سے لیے گئے۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ ساتھ ہی فرماتا ہے کہ يَمُتُونَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوا قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وہ لوگ جو اسلام لاکر تم پر احسان جتلاتے ہیں۔ان کو کہدو کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتلاؤ ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی اسلام لانے کا احسان نہیں جتلا سکتا جو بانی اسلام ہیں۔تو دوسروں پر کیا جتلا سکتا ہے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کو فرماتے ہیں کہ تمہارا مجھے پر کوئی احسان نہیں ہے۔تو پھر حضرت مسیح موعود اور ان کے خلیفہ یا کسی انجمن پر کسی کا کیا احسان ہو سکتا ہے۔اب خدا تعالے رہ جاتا ہے کہ اس پر احسان جتلایا جائے اگر اس پر احسان کیا ہے تو جو کچھ کہنا ہے اسے کہو اور اس سے مانگو۔نہ کہ انسانوں سے۔جن پر احسان ہی نہیں کیا تو خدا سے مطالبہ ہو سکتا تھا کہ ہم نے اسلام میں آکر آپ پر احسان کیا ہے پھر کیا وجہ ہے۔ہمیں عزت نہیں دی گئی اور ہماری قدر نہیں کی جاتی مگر اس کا جواب بھی خدا نے دے دیا ہے کہ تم جو اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہو۔اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ در حقیقت تم اسلام لائے ہی نہیں۔اگر اسلام نہیں لائے تو پھر تم کوئی مطالبہ ہی نہیں کر سکتے اور محض جھوٹ بولتے ہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اگر یہ بات ہے تو تم بجائے کچھ حاصل کرنے کے مجرم ہو اور سنزا کے قابل ہو اور اگر واقعہ میں ایمان لائے ہو تو بتلاؤ کہ یہ ہمارا تم پر احسان ہے یا تمہارا ہم پھر یہ