خطبات محمود (جلد 6) — Page 10
میں کیکر ہوتے ہوتے ہیں۔انگور نہیں کیونکہ انگور کی ہیں میں کانٹے نہیں ہوتے۔کیا یہ ایمان کے نتائج ہو سکتے ہیں، کیا ایمان کے دلائل میں سے یہ بھی کوئی دلیل ہے کہ جب تک پندرہ ہیں روپے ملتے رہیں یا کوئی عمدہ حاصل ہو۔یا کوئی خاص کام شپرد ہے۔اس وقت تک تو ایمان ہے اور جب یہ نہیں تو ایمان بھی نہیں۔اگر یہ کوئی دلیل ہے تب تو ہم ایسے لوگوں کو حق پر سمجھ لینگے۔اور اگر یہ ہیں تو کو ترک کیا۔بہنوں ، بھائی کا ایمان ہی نہیں۔دیکھو صحابہ نے وطن چھوڑسے عزیزوں اور رشتہ داروں پھر یہ ثابت ہو گیا کہ ان بیوی بچوں سے الگ ہوتے اور دین کی راہ میں اپنا مال اور جانیں قربان کر دیں۔ان کے مقابلہ میں اس وقت کے منافق بدتر تھے کیونکہ انھوں نے ایسانہ کیا۔مگر اس زمانہ کے کئی مومن کہلانے والوں سے اچھے تھے۔کیونکہ ان کا ایمان اس سے وابستہ نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں کچھ ملتا ہے یا نہیں۔بلکہ انھیں یہ خیال ہوتا تھا کہ ہمارا نہ کچھ جاتا رہے مگر آج یہ خیال نہیں ہوتا۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کچھ ملتا ہے یا نہیں، اگر ملے تو ایمان قائم۔اور اگر نہ ملے تو کچھ بھی نہیں۔اگر یہی معیار منافقت کا قرار دیا جائے تو رسول کریم کے وقت تو کوئی منافق رہتا ہی نہیں۔عبداللہ ابن ابی ابن سلول کو اس لیے اختلاف نہ تھا کہ مجھے کچھ کیوں نہیں دیا جاتا۔وہ ایک امیر آدمی تھا۔بلکہ اس لیے تھا کہ جو کچھ میرا ہے وہ مجھ سے نہ لیا جائے۔پھر اس وقت کے منافق کچھ نہ کچھ تو دیتے تھے۔البتہ انتہائی نصرت نہ کرنے کی وجہ سے منافق رہے مگر آج ان سے بھی کم خرچ کرنے والے کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت بڑھ گئے ہیں۔اور نہیں پورا پورا ایمان حاصل ہو گیا ہے۔یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔حالانکہ کوئی ایمان نہیں لائے۔ہاں مسلمانوں میں داخل ہو گئے ہیں۔اور کئی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہمارا ایمان جاتا رہا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی انسان مومن تب بنتا ہے جبکہ اسے بشاشت ایمان حاصل ہو۔اور یہ مومن بننے کی چھوٹی سے چھوٹی تعریف ہے جس طرح مدر سے میں نام لکھانے سے پہلی جماعت کا لڑکا بھی طالب علم کہلا سکتا ہے۔اسی طرح مومن کہلانے کے لیے یہ بات ہے کیونکہ رسول کریم فرماتے ہیں کہ مومن نام رکھانے کا استحق انسان اُس وقت بنتا ہے۔جبکہ اس میں بشاشت ایمان پائی جائے۔صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہی کہ اگر آگ میں ڈالا جائے تو ایمان نہ چھوڑنے ہی یہ ایک ادنی درجہ ہے مومن کا۔اور اس کے آگے اور ترقی حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام بشاشت نه بخاری کتاب المرضى باب عيادة المريض ہے بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الایمان