خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 30

خطبات محمود جلد (5) ۳۰ اس کے لئے ایسے درجے کھل جاتے ہیں جو فرشتوں کو بھی حاصل نہیں یہی وجہ ہے کہ شب معراج میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے وہاں جبرائیل نہیں جا سکے جبرائیل ہرکارہ تھے اور بھیجنے والا خدا اور جس کو خط بھیجا گیا تھا وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم تھے۔گو جبرائیل کا درجہ دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں کتنا ہی بڑا ہو۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ہرکارے کی حیثیت تھی کیونکہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کیا کرتا تھا۔یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی عزت تھی۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک ایک وحی کے ساتھ ہزاروں فرشتے اُترا کرتے تھے۔یہ اسی لئے کہ خدا تعالیٰ اتنے فرشتوں کو ایک کلام کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج کر بتاتا تھا کہ یہ ہمارا ایسا پیارا ہے کہ اس کے مقابلہ میں جو ہمارے بڑے پیارے ہیں وہ بھی ادنیٰ ہو گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جس شان کا کلام ہوتا۔اسی قدر زیادہ فرشتے ساتھ آتے۔ورنہ فرشتے اس لئے نہیں آتے تھے کہ کلام کے پہنچانے میں کوئی ڈر تھا۔اس لئے حفاظت کے لئے ساتھ فرشتے بھیجے جاتے تھے۔کلام تو یوں بھی محفوظ ہی تھا اور کسی کی کیا طاقت تھی کہ اس میں کچھ دخل دیتا۔تو انسان بہت قرب اور مدارج حاصل کر سکتا ہے اور اس قدر حاصل کر سکتا ہے کہ ملائک کے لئے بھی وہ مدارج نہیں ہیں۔پس جب انسان کے لئے اتنے مدارج ہیں تو ضرور ہے کہ اس کے لئے خطرات بھی اتنے ہی بڑے ہوں کیونکہ بڑے انعام کے ساتھ بڑے ہی خطرات ہوتے ہیں یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں اسی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔فرمایا خدا کے لئے مومن ہونا اور اس کی فوج میں داخل ہونا اور اس کا مقرب اور پیارا ہونا کوئی ایسی چھوٹی سی چیز نہیں ہے کہ منہ سے کہا اور ہو گیا۔صرف امنا کے کہنے سے کوئی مومن نہیں ہو جاتا۔دیکھود نیاوی گورنمنٹیں جب سپاہیوں کو بھرتی کرتی ہیں تو ان کے ہر ایک عضو کا معائنہ کراتی ہیں۔آنکھ۔کان۔ناک۔ہاتھ پاؤں قد۔چال چلن وغیرہ تک دیکھتی ہیں اور بڑی شرائط کے بعد فوج میں داخل کرتی ہیں۔تو کیا خدا تعالیٰ کی فوج میں داخل ہونے کے لئے کسی امتحان کی ضرورت نہیں اور کیا یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ صرف امنا کہہ دینے سے کوئی مومن ہو سکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ ہر ایک بات کو جاننے والا ہے اور اس کے