خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 31

خطبات محمود جلد (5) ٣١ قرب کے ذرائع بہت وسیع ہیں حتی کہ ختم ہی نہیں ہوتے۔اسی طرح اس کا امتحان بھی بہت بڑا ہے۔اس لئے جو انسان اس بات کے لئے کھڑا ہو کہ میں خدا کا قرب حاصل کروں اور صحیح معنوں میں انسان بنوں وہ یہ مت سمجھے کہ صرف منہ سے امنا کہنے سے وہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکے گا بلکہ اس کے لئے بڑی آزمائش ا میں سے گزرنا ہوگا اور جب وہ اس میں پکا ثابت ہوگا تو اس قابل سمجھا جائے گا۔کہ خدا کا قرب حاصل کرے دور نہ اس کا زبانی دعوی کسی کام کا نہیں ہوگا۔ان آیتوں کے پہلے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔الم۔یہ فرما کر خدا تعالیٰ نے انسان کو ڈانٹا ہے۔کہ دیکھو دھو کہ انسان کو دیا جا سکتا ہے اور انسان بسا اوقات دھو کہ کھا بھی جاتا ہے کیونکہ وہ ہر ایک چیز کے متعلق علم نہیں رکھتا۔لیکن خدا چونکہ ہر ایک چیز کا علم رکھتا ہے اس لئے وہ کسی دھوکہ دینے والے کا دھوکہ نہیں کھا سکتا۔اس کے سامنے کسی کے دھوکہ سے یہ کہہ دینے سے کہ میں ایمان لے آیا وہ مومن نہیں ہو سکتا۔کیونکہ الم یعنی انا اللهُ أَعْلَمُ الله بہت بڑا جاننے والا ہے۔دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی سے محبت جتلاتے ہیں۔دوستی ظاہر کرتے ہیں اور ذرا ذراسی بات پر کہہ دیتے ہیں کہ میں آپ کے قربان جاؤں اور سننے والا بھی سمجھتا ہے کہ واقعہ میں اس کو مجھ سے بڑا پیار اور محبت ہے اور یہ میرے لئے جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے لیکن جب کوئی موقعہ پیش آتا ہے تو محبت پیار اور دوستی کی ساری حقیقت کھل جاتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ جو دلوں کا واقف ہے اور انسان کی ہر ایک پوشیدہ سے پوشیدہ بات کو جانتا ہے وہ کہاں فریب کھا سکتا ہے۔وہ خوب جانتا ہے اور اپنے جاننے کا ثبوت اس طرح دیتا ہے کہ انسان کو فتنہ میں ڈالتا ہے۔بہت انسان ایسے ہوتے ہیں۔جو خود بھی نہیں جان سکتے کہ ہماری محبت خدا تعالیٰ سے جھوٹی ہے یا سچی۔ان پر بھی خدا تعالیٰ فتنہ میں ڈال کر کھول دیتا ہے کہ تم اپنے نفس کے متعلق نہ سمجھتے تھے مگر ہم خوب جانتے تھے اور اب تم کو بھی معلوم کرا دیا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس کے دھوکہ میں آ کر اپنے آپ کو بہادر سمجھتا ہے مگر تھوڑے سے خطرہ اور ڈر سے اسے اپنی بزدلی کا علم ہوجاتا ہے۔بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ فلاں سے مجھے بڑی محبت ہے۔مگر