خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 29

خطبات محمود جلد (5) ۲۹ سے بالکل دور جا پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی انسان انسانیت کو چھوڑتا ہے تو ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ حیوانوں سے بدتر ہو جاتا ہے۔ایک کتے اور ایک چڑیا کی خدا تعالیٰ کے حضور قدر ہوتی ہے مگر اس کی نہیں ہوتی۔ایک کتے کی خدا تعالیٰ کے نزدیک قدر ہوتی ہے مگر انسان کی نہیں ہوتی ایسے موقع پر خدا تعالیٰ کے سامنے انسان ایک بدترین مخلوق ہوتا ہے۔مجھے خوب یاد ہے۔حضرت مسیح موعود کہانی کے رنگ میں سنایا کرتے تھے اور اس قسم کی باتیں لکھنے والوں نے لکھی ہیں۔معلوم نہیں سچی ہیں یا جھوٹی۔بعض باتیں نصیحت کے طور پر لکھی جاتی ہیں اور بعض کی کچھ اصلیت بھی ہوتی ہے اور بعض کی نہیں۔اسی طرح کسی نے لکھا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے وقت جو طوفان آیا تو ایک چڑیا کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر پیاسا تھا۔ماں باپ اس سے جدا ہو چکے تھے اور وہ بہت سخت پیاسا ہو رہا تھا۔طوفان جو بڑھتا گیا تو آخر اس پہاڑ کی چوٹی تک بھی پہنچا اس وقت اس چڑیا کے بچہ نے پانی پی لیا۔یہ واقعہ سچا ہے یا جھوٹا اس سے ہمیں بحث نہیں لیکن اس میں جو حکمت ہے وہ بہت سچی ہے اور وہ یہی ہے کہ جب انسان خدا کے مقرر کردہ قوانین کو توڑ کر اس کے مقابلے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کے نزدیک حیوانوں کی قدر ہوتی ہے۔مگر اس کی نہیں ہوتی۔کیوں اس لئے کہ حیوان خدا تعالیٰ کے نافرمان نہیں ہوتے اور یہ ہوتا ہے۔پھر حیوانوں کی خاطر خدا تعالیٰ انسانوں کے تباہ کرنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور انہیں ہلاک کر دیتا ہے۔اس وقت انسان کی جان بے قیمت اور بے حقیقت ہو جاتی ہے۔غرض انسان اسی وقت تک انسان ہے جب تک کہ اس میں انسانیت قائم ہے۔اور روحانی لحاظ سے انسانیت یہی ہے جس سے اس میں اور حیوانوں میں فرق ہے کہ اس کی روح ترقی کر کے اسے خدا تعالیٰ کا مقرب بنادے۔اگر کوئی انسان اس قرب کو حاصل نہ کرے یا اس کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے اور اس راہ میں صبر اور استقلال کو کام میں نہ لائے تو وہ انسان نہیں ہے۔انسان کو حیوان سے جو یہ امتیاز حاصل ہے تو یہ اس پر ایک ایسا انعام ہے جو اس دنیا کی کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہے۔بلکہ جب کوئی انسان اس انعام کو حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب میں پوری پوری ترقی کرنی شروع کر دیتا ہے۔تو