خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 235

خطبات محمود جلد (5) ۲۳۵ کیونکہ میں چاہتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے شہادت دے لیکن باوجود اس کے کہ میرے سر سے لے کر پاؤں تک تمام جگہ زخم لگے۔اور کوئی جگہ ایسی نہ رہی جہاں زخم نہ لگا ہو۔مگر آج میں چار پائی پر مر رہا ہوں۔اور مجھے شہادت نصیب نہیں ہوئی۔اے انہوں نے یہ اپنے جوش اور ایمان کی زیادتی کی وجہ سے کہا۔ورنہ درحقیقت ہر ایک زخم کا وہ نشان جوان کے بدن پر پڑا ہوا تھا ان کے لئے شہادت تھی۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کہاں شہید ہوئے۔مگر جس طرح آپ نبی تھے اسی طرح صدیق اور شہید بھی تھے۔ہاں آپ کی شہادت تلوار سے نہیں ہوئی تھی۔کیونکہ ضروری تھا کہ آپ کی جان کی حفاظت کی جاتی اگر چہ یہ بات آپ کے درجہ اور علوشان کے خلاف تھی کہ آپ شہید ہوتے۔مگر آپ نے خدا کی راہ میں جان تک دینے سے بھی کوئی پرواہ نہ کی۔اسی طرح اور کئی ایک صحابہ دنیا کی نظر میں تو شہید نہیں ہوئے مگر خدا کی نظر میں شہید ہیں۔کئی انسان چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔مگر خدا کے لئے وہ شہید ہو چکے ہوتے ہیں اور ہر منٹ ان پر موت وارد ہوتی ہے۔یہی ایمان کا وہ درجہ ہے جس کی طرف خدا تعالیٰ بلاتا ہے۔اور اس قسم کا ایمان رکھنے والوں کا ذکر اس لئے کرتا ہے کہ تا دوسروں کے لئے باعث ترغیب ہو۔فرماتا ہے بعض لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں ایسے لگا دیتے ہیں کہ موت تک پیچھے نہیں ہٹتے۔بلکہ آگے ہی آگے بڑھتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ گو وہ زندہ ہوتے ہیں مگر ہر منٹ اور ہر ساعت وہ اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ کب ایسا موقعہ آئے کہ ہم اپنی جان بھی لڑا دیں۔یہی ایمان خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتا ہے۔اور یہی وہ ایمان ہے جو خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث بناتا ہے ورنہ صرف زبانی دعوے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلتا۔ہماری جماعت میں ابھی ترقی کا بہت میدان کھلا ہے اور ترقی تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان انسان بھی ترقی کر رہا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔تو اور کون ہے جو ترقی کے تمام مدارج طے کر لے مگر ہماری جماعت کے لئے اس درجہ تک پہنچنے کے لئے بھی بہت میدان باقی ہے جو صحابہؓ نے حاصل کیا تھا۔اور بہت لوگ ایسے ہیں جنہیں ضرورت ہے کہ لے اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ حالات خالد بن ولید و تاریخ والتخمیس جلد ۲ ص ۲۷۵