خطبات محمود (جلد 5) — Page 236
خطبات محمود جلد (5) ۲۳۶ اسی رنگ میں رنگین ہو جائیں جس میں صحابہ رنگے گئے تھے۔اپنا مال اپنی جان اپنا آرام جس طرح صحابہ نے قربان کیا تھا اسی طرح ان کو بھی کرنا چاہیئے ہماری قربانیاں صحابہ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہیں لیکن جب تک ہم بھی وہی قربانیاں نہ کریں گے جو صحابہ نے کی ہیں اس وقت تک اس انعام کے مستحق نہیں ہو سکیں گے جو صحابہ کو ملا تھا۔اللہ تعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں اس لئے اس نے جس طرح پہلوں پر انعام کئے تھے اسی طرح اب اور آئندہ بھی کر سکتا ہے اور جو کوئی اس کی طرف جھکے اس کو وہی درجہ دے دیتا ہے۔جو جھکنے والوں کو پہلے دیتا آیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں اور کثیر تعداد میں ہیں کہ ان کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں مِنْهُمْ مَنْ قَطَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ۔کئی ہیں جنہوں نے خدا کے راستہ میں جانیں قربان کر دی ہیں۔سید عبد اللطیف صاحب شہید اور ان کے شاگرد نے اپنی جان دینی منظور کر لی۔مگر ایمان نہ دیا۔پھر اور بہت سے بزرگ تھے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم۔پھر ایک تعداد ایسے مردوں کی زندہ بھی ہے۔ایک تو وہ تھے کہ فوت ہو گئے مگر اپنے عہد کو نہ توڑا اور ایک وہ ہیں جو اس دن کے منتظر بیٹھے ہیں کہ خدا کے دین کی خدمت کرتے کرتے جان نکلے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ہمارا ایک مخلص بھائی دنیا سے گزرا ہے اس کا میرے ساتھ بہت تھوڑی مدت تعلق رہا ہے۔مگر میں نے اس عرصہ میں اسے دیکھا ہے کہ وہ مَنْ يَنْتَظِرُ کے گروہ میں شامل تھا۔یہ ذکر میں نے اس لئے نہیں کیا کہ اس کی وفات سے ہمارے سلسلہ کوکوئی بڑا نقصان پہنچا ہے۔بلکہ دوسروں کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان صحابہ کے لئے جو جنگ اُحد میں شہید ہوئے تھے اسی طرح فرمایا تھا ورنہ کون کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے سلسلہ احمدیہ کی ترقی وابستہ ہے یا فلاں شخص سے جو ہم میں نہیں رہا وابستہ تھی۔خدا تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہر ایک انسان اس کا محتاج ہے۔پس میں یہ ذکر اس طور پر نہیں کرتا کہ ہمارے اس بھائی کے فوت ہو جانے سے سلسلہ احمدیہ کو کوئی نقصان پہنچا ہے کیونکہ نقصان کسی آدمی کے جانے سے نہیں پہنچ سکتا۔خدا تعالیٰ جس نے اس کو قائم کیا ہے