خطبات محمود (جلد 5) — Page 234
خطبات محمود جلد (5) ۲۳۴ ڈالتا ہے تو اس سے سینکڑوں دانے نکلتے ہیں اور یہ جسمانی زمین ہے۔لیکن اگر کوئی روحانی زمین میں بیج ڈالے تو اس کے پھل اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اس لئے کبھی کوئی اس تجارت سے گھاٹا نہیں پاسکتا۔خدا تعالیٰ نے اپنے لئے یہ بات خاص کر چھوڑی ہے کہ جب بندہ اس سے لین دین کرتا ہے تو نفع ہی نفع حاصل کرتا ہے۔چونکہ سود بھی ایک قسم کا نفع ہے جس میں نفع ہی نفع ہوتا ہے۔نقصان نہیں ہوتا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس فعل کو اپنے لئے خالص کرنے کے لئے بندوں کو منع کر دیا ہے کہ وہ سود نہ لیں یہ خدا تعالیٰ ہی کی صفت ہے کہ وہ نفع ہی نفع دیتا ہے۔پس جب خدا کو اتنی غیرت ہے کہ اس نے بندوں کو اس قسم کے لین دین سے بھی منع کر دیا ہے تا کہ یہ صرف خدا ہی کی خصوصیت رہے۔حالانکہ بندوں کا فعل خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بہت ہی حقیر اور لاشئے ہے اور اکثر دفعہ سود کی بجائے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔تاہم خدا تعالیٰ نے اس کو پسند نہیں کیا۔پس وہ جو اس کی رضا کے لئے کچھ خرچ کرتا ہے۔کبھی نقصان نہیں اٹھاتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ - (الاحزاب : ۲۴) که مومنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدہ کیا تھا اس کو انہوں نے سچا کر دکھایا اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ انہوں نے جو نذر مانی تھی اسے پورا کر سکے ہیں یعنی خدا کی راہ میں انہوں نے اپنے آپ کو ایسا لگایا کہ اپنی جان بھی دے چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جان تو نہیں دے چکے مگر وہ یہی عہد کئے بیٹھے ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ چاہے جان لے لے۔یہ اور بات ہے کہ ابھی تک ان کی جان اللہ تعالیٰ نے نہیں لی۔مگر وہ پیچھے نہیں ہے۔اور نہ ہٹیں گے۔چنانچہ صحابہ میں اس کی بڑی بڑی نظیرمیں مل سکتی ہیں۔ینتظر کی مثال تو یہ دیکھ لیجئے کہ خالد بن ولید ابتدائی صحابہ میں سے نہیں تھے۔جس بیماری میں انہوں نے وفات پائی۔اس کے متعلق ان کے ایک دوست کہتے ہیں کہ میں انہیں ملنے کے لئے گیا۔میں نے دیکھا کہ وہ رو ر ہے ہیں۔میں نے پوچھا آپ کیوں روتے ہیں۔انہوں نے کہا۔میں اس لئے روتا ہوں کہ میں سالہا سال جنگ کرتا رہا ہوں اور خطر ناک سے خطر ناک جگہ تلاش کر کے وہاں گھستا رہا ہوں۔