خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 587

خطبات محمود جلد (5) ۵۸۶ سے خالی ہے تو اس کو بھی اطمینان حاصل ہوگا۔مگر ظاہر ہے کہ دونوں کے اطمینان میں فرق ہے۔پہلے کا اطمینان جہالت سے ہے۔اور دوسرے کا صحیح علم سے۔یا مثلاً کوئی کہیں بیٹھا ہو۔اور ایک شخص کسی جگہ اس کے اکلوتے بیٹے کوقتل کر رہا ہو۔یا کوئی شخص اپنے کھیت پر یا مکان پر۔یا دفتر میں ہو اور اس کی غیبت میں اس کا گھر لٹ رہا ہو۔کھیت جل رہا ہو۔اس کے عزیز واقارب پر مصیبت پڑ رہی ہو تو چونکہ اس کو علم نہیں اسلئے وہ اطمینان میں ہوگا۔لیکن اس کا اطمینان و آرام واقعی نہیں ہے۔بلکہ اس لئے ہے کہ اس کو پتہ نہیں اور خطرہ سے لاعلم ہے۔یا مثلاً کسی کو کلورا فارم سنگھا کر بیہوش کر دیا گیا ہو ایسی حالت میں خواہ کسی بھی عضو کو کاٹ دو۔اس کو اس حالت میں خبر نہ ہوگی۔یا مثلاً ایک شخص کھانا کھاتا ہے۔اور اس کو علم نہیں کہ اسمیں زہر کی آمیزش ہے تو وہ اطمینان اور تسلی سے کھائے گا۔مگر ایک دوسرا شخص ہے کہ اس کو علم ہے کہ میرا کھانا زہر سے بالکل پاک ہے۔اب اگر چہ ان دونوں کو اطمینان ہے۔مگر انکے اطمینان میں فرق ہے۔ایک کا اطمینان جہالت سے ہے۔دوسرے کا علم سے۔پس علم کے بغیر کسی کو کیا سمجھانا ہے۔انسان اپنے نفس میں خود مطمئن نہیں ہوسکتا۔تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کا علم حاصل کیا جائے جن کی تبلیغ منظور ہے۔اب غور کرنا چاہیئے کہ ایک طرف تو قرآن سب مسلمانوں کا فرض قرار دیتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ للناس ( آل عمران : ۱۱۱) کہ تم ایک بہترین امت ہو جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالے گئے ہو۔پس ثابت ہوا کہ تبلیغ ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ادھر قرآن فرماتا ہے لا تقف مالیس لك به علم کہ جس بات کا تمہیں علم نہ ہو دوسروں کو مت کہو۔ان دونوں کو ملانے سے جو نتیجہ ہم نکالتے ہیں وہ یہی ہے کہ تبلیغ ہر ایک پر فرض ہے نیز یہ بھی کہ تبلیغ کے لئے ضروری مسائل کا علم حاصل کرے۔جن کی تبلیغ منظور ہے اگر ایسا نہیں کرتا۔بے علمی کے ساتھ تبلیغ کرتا ہے تو خدا کے حضور پوچھا جائیگا۔تبلیغ چونکہ ہر شخص پر فرض ہے۔اس لئے ہرا یک شخص کا یہ بھی فرض ہے