خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 586

۵۸۵ 80 خطبات محمود جلد (5) حصول علم ہر احمدی کا فرض ہے (فرموده ۹ نومبر ۱۹۱۷ء) حضور نے تشہد وتعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: ولا تقف ماليس لك به علم ان السمع والبصر والفواد كل اولئك كان عنه مسئولا ( بنی اسرائیل : ۳۷) چونکہ یہ زمانہ۔زمانہ اشاعت اسلام ہے۔اور منشاء الہی یہ ہے کہ اسلام کو اپنی تمام شان کے ساتھ دنیا میں ظاہر کرے۔اس لئے اس زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق تبلیغ اسلام کے متعلق ضروری ہے کہ زیادہ زور دیا جائے اور اس کام کے کرنے کیلئے جو ضروریات اور سامان ہیں ان کو مشرح کر کے بیان کیا جائے تا کہ ہر شخص اس میں حصہ لے سکے۔حقیقتا تبلیغ کے لئے دو ہی باتیں ہیں جن کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اول علیم صحیح۔جب تک صحیح علم کسی بات کا حاصل نہ ہو انسان خودا پنی تسلی تسکین اور تشفی نہیں کر سکتا۔میرا مطلب تسلّی اور تسکین سے وہ حالات سکر اور نشہ نہیں جو جہالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔بلکہ وہ حقیقی یقین مراد ہے جس کے بغیر اطمینان کامل نصیب نہیں ہو سکتا۔جہالت کا نتیجہ بھی آرام ہے۔لیکن وہ حقیقی آرام نہیں کہلا سکتا۔میں اس کو مثال دیکر سمجھاتا ہوں۔مثلاً کوئی شخص ایسے جنگل میں ہو جہاں شیر پائے جاتے ہوں۔مگر اس کے سامنے کوئی شیر نہ ہو اور نہ اس کو علم ہو کہ اس بن میں شیر ہیں تو اس کو ایک اطمینان ہوگا۔مگر ایک دوسرا شخص ہو جس نے تمام جنگل کو دیکھ بھال کر یقین کر لیا ہو کہ شیروں