خطبات محمود (جلد 5) — Page 267
خطبات محمود جلد (5) ۲۶۷ مقابلہ پر کھڑی ہوئی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے مقابلہ پر بھی آمادہ ہوگئی۔یہ مرض اس وقت مسلمانوں میں بھی بہت پایا جاتا ہے۔اور یہی ان کی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہورہا ہے۔وہ اپنے پاس سے مسائل گھڑ گھڑ کر گناہوں کو جائز کر لیتے ہیں کبھی یہ کہتے ہیں کہ فلاں موقعہ پر جھوٹ بول لینا جائز ہو جاتا ہے۔فلاں موقعہ پر بغاوت کرنا گناہ نہیں ہوتا۔فلاں موقعہ پر بدعہدی جائز ہو جاتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ان میں جھوٹ۔فریب۔دغا اور غدر کی کوئی حد نہیں رہی۔اور وہ اپنے خیال میں ایسی باتوں کو جائز سمجھتے ہیں۔حالانکہ بدی کسی طرح بھی جائز نہیں ہوسکتی ہے جھوٹ بہر حال جھوٹ ہی ہے۔خواہ کسی وقت بولا جائے۔اسی طرح غدر بہر حال غدر ہی ہے خواہ کسی موقعہ پر کیا جائے۔خیانت ہر وقت خیانت ہی ہے خواہ کوئی کرے اس میں کچھ فرق نہیں آ سکتا۔لیکن اب جا کر مسلمانوں سے پوچھو۔یہی کہیں گے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے دغا اور فریب کرنا جائز ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ امرتسر میں اہلحدیث میں سے ایک شخص تھا اس کو میں نے ایک چوٹی دی کہ دو آنے کی فلاں چیز لے آؤ اور دو آنے واپس لے آنا۔جب وہ واپس آیا۔تو دو آنے کی وہ چیز بھی لے آیا اور چھ آنے بھی لا دیئے۔میں نے کہا۔یہ کیا چھ آنے کس طرح لے آئے ؟ اس نے کہا۔میں نے ایک ہندو سے یہ چیز خریدی ہے۔اور اسی سے یہ پیسے بھی لے آیا ہوں۔آپ لے لیجئے۔حضرت مولوی صاحب نے کہا۔اس نے کس طرح تم کو چھ آنے دے دیئے۔کہنے لگا میں اس سے خود لایا ہوں وہ کہاں دیتا تھا۔اس طرح کیا کہ جب میں نے اس سے یہ چیز لے لی اور چوٹی دے دی تو اس سے ایک ایسی چیز مانگی جو اس نے اندر رکھی ہوئی تھی وہ چوٹی کو صندوقچی کے اوپر ہی رکھ کر اس کے لینے کے لئے اندر گیا۔اس کے اندر جانے پر میں نے چوٹی اٹھالی۔جب وہ چیز لے کر واپس آیا تو میں نے ناپسند کر دی اور نہ خریدی اس نے سمجھا کہ میں نے جو چونی لی تھی۔وہ صندوقچی میں ڈال لی تھی۔اس لئے اس نے دوٹی نکال کر مجھے دے دی۔اور میں لے کر چلا آیا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے۔میں نے اس سے کہا یہ کیا ؟ یہ تو فریب اور دھوکہ ہے۔کہنے لگا۔دوکاندار کا فر تھا اور کافروں سے ایسا کر لینا جائز ہے۔تو اسی قسم کے خیالات نے مسلمانوں کو دوسروں سے ناجائز افعال کرنے پر آمادہ کر دیا۔لیکن اب جا کر دیکھ لو۔کیا ایسے مسلمان نہیں ہیں جو مسلمانوں سے ہی دغا اور فریب کرتے ہیں۔پہلے انہوں نے