خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 266

خطبات محمود جلد (5) ۲۶۶ حيوة۔کہ قاتل کے قتل کرنے میں تمہاری زندگی ہے۔حالانکہ مرنے والا تو مر گیا۔اب اگر اس کے قاتل کو قتل کر دیا جائے گا تو وہ تو زندہ نہیں ہو سکتا۔پھر قصاص میں حیات کس طرح ہوئی۔اس طرح کہ اگر آج تم ایک شخص کے قاتل کو پکڑ کر قتل نہ کرو گے۔تو کل وہ تم میں سے کسی دوسرے کو قتل کر دے گا۔اس لئے فرمایا کہ قصاص میں زندگی ہے۔یعنی اگر قاتل سے قصاص نہ لیا جائے گا تو وہ تم میں سے کسی اور کی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔اس سے خدا تعالیٰ نے یہ سمجھایا ہے کہ جو شخص ایک کام ایک جگہ کرتا ہے وہ وہی کام دوسری جگہ بھی کر لے گا۔اگر کسی نے خالد کے ہاں چوری کی ہے تو وہ بکر کے ہاں بھی کر سکتا ہے۔اور اگر اس نے خالد سے غدر کیا ہے تو وہ بکر کے ساتھ بھی کر سکتا ہے۔پھر اگر ایک سے وفاداری کرتا ہے تو دوسرے سے بھی کر سکتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ اس قسم کے اخلاقی جرم متعدی ہوتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں۔متعدی سے ایک تو یہ مراد ہوتی ہے کہ کوئی برائی ایک انسان سے دوسرے انسان میں سرایت کر جائے لیکن یہاں متعدی سے میری مراد یہ ہے کہ جس انسان کے ایک حصہ میں اس قسم کی بیماری ہوتی ہے اس کے دوسرے حصہ میں بھی پہنچ جاتی ہے۔مثلا کوئی کہے کہ اپنے ہموطن لوگوں کے سوا دوسروں سے نفرت کرنی چاہئیے۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے ہموطنوں سے بھی نفرت کرنے لگ جائے گا۔اور اس طرح وہ نفرت جو اس کے دل کے تھوڑے سے حصہ میں دوسرے لوگوں کے متعلق تھی وہ زیادہ پھیل جائے گی اس قسم کا انسان بہت خطرناک ہوتا ہے اس سے جہاں تک ہو سکے بچنا چاہیئے۔اور یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ اس نے فلاں کو نقصان پہنچایا ہے۔مجھے تو نہیں پہنچایا۔کیونکہ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک مکان کو آگ لگ رہی ہو اور اسکے پاس کے مکان والا کہے کہ میرے مکان کو تو آگ نہیں لگی ہوئی۔کہ میں اس کے بجھانے کی کوشش کروں۔ایسا کہنے والا انسان نادان اور سخت نادان ہوگا کیونکہ بہت جلدی وہ آگ اس کے مکان تک پہنچ کر اسے بھی جلا کر خاک سیاہ کر دیگی اسی طرح اگر کوئی شخص ایک سے غداری کرتا ہے تو دوسرے کو بھی سمجھ لینا چاہئیے کہ اگر اسے موقعہ ملا تو مجھ سے بھی ضرور کرے گا۔بنی اسرائیل کو دیکھو۔پہلے اس نے حکومت وقت سے غدر کیا۔اور بادشاہوں کے