خطبات محمود (جلد 5) — Page 268
خطبات محمود جلد (5) ۲۶۸ یہ سمجھا کہ کافروں سے ایسا کر لینا جائز ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے ایسا ہی کرنے لگ گئے۔کیونکہ ان کی ابتداء ہی غلط اور بیہودہ تھی اور جب کوئی ایک سے فریب کرے گا تو دوسرے سے بھی کرے گا۔اور پھر وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس سے مجھے کوئی تعلق اور واسطہ ہے یا نہیں۔بلکہ جہاں وہ عمدہ موقعہ پائیگا۔وہیں اپنی عادت کو کام میں لے آئے گا۔میں جب کشمیر گیا۔تو وہاں ایک غالیچہ باف کو غالیچے بننے کے لئے کہا گیا۔اور قیمت پیشگی دے دی۔غالیچہ کا طول و عرض سب اس کو بتا دیا گیا۔ہم آگے چلے گئے جب واپس آکر اس سے غالیچے مانگے تو اس نے لیٹے ہوئے ہمارے ہاتھ میں دیدیئے اور کہنے لگا کہ اسی طرح بند کے بند ہی لے جاؤ۔کھولو نہیں لیکن اس کے بار بار اس بات پر زور دینے سے ہمیں خیال ہوا کہ کوئی بات ہی ہے جب یہ کہتا ہے کہ بند کے بند ہی لے جاؤ۔اس لئے کھول کر دیکھنے چاہئیں۔جب کھولے اور نا پے تو معلوم ہوا کہ ایک ایک بالشت طول میں اور ایک ایک چپہ عرض میں کم تھے۔ہم نے اسے کہا۔یہ تم نے کیا کیا؟ وہ کہنے لگا۔جی ہم مسلمان ہوتے ہیں۔میں اسے کہوں کہ اسلام میں تو ایسا کرنا نا جائز ہے۔پھر تم نے مسلمان ہو کر کیوں ایسا کیا۔اس کا وہ یہی جواب دیتا رہا کہ میں مسلمان ہوں۔اس کہنے سے اس کا یہ مطلب تھا کہ اگر ہم مسلمان لوگ ایسا نہ کریں تو ہمارا گزارہ نہیں ہوتا۔تو اب مسلمانوں میں ہر ایک سے دھوکہ فریب دغا کرنے کی عادت ہی ہو گئی۔جب انہوں نے دوسروں سے غدر کرنا سیکھا تو اب اپنوں پر بھی اس کو استعمال کرنے لگ گئے۔اس طرح ان کا نہ آپس میں اعتبار بھروسہ اور اطمینان رہا۔اور نہ دوسروں کے نزدیک۔اور ان اخلاقی جرموں کی پاداش میں ان کی حالت اس قدر ذلت اور رسوائی کو پہنچ گئی کہ اب کشمیر کی تجارت پہلے کی نسبت سینکڑوں گنا کم ہو گئی ہے۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو یہ بتائی گئی کہ یہاں کے لوگ ناقص مال بنا کر بھیجتے تھے۔جس کا آہستہ آہستہ یہ انجام ہؤا کہ لینے والوں نے مال کا لینا ترک کر دیا۔اور جب مال نہ بکا۔تو بنانے والوں نے بھی اس کام کو چھوڑ کر اور کام اختیار کر لئیے۔اور اس طرح تجارت کو زوال آگیا۔تو غدر۔بے وفائی۔بد عہدی کا نتیجہ بھی اچھا نہیں ہوتا۔جب کوئی قوم ان بڑے کاموں میں مبتلا ہو جاتی ہے تو دوسرے ہر وقت اس کی طرف سے چوکس