خطبات محمود (جلد 5) — Page 532
خطبات محمود جلد (5) ۵۳۱ کو الگ لے گیا۔اور کہا کہ آپ نے اس پادری کی خوب خبر لی ہے۔مگر میں آپ کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ کہ آپ جانتے ہیں۔یسوع بے گناہ تھے۔اور باقی سب انسان گنہگار تھے۔اس لئے گنہگار کی نجات بے گناہ کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔مگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) گناہ گار تھے۔انکے ذریعہ تو نجات ہو نہیں سکتی۔اس لئے نجات دہندہ یسوع ہی ہوا۔اس پر مفتی صاحب نے وہی حربہ چلا یا جو ہمارا مشہور حربہ ہے کہ آپ یہ بتائیں کہ آدم نے جو گناہ کیا اس کا ذریعہ حوا ہوئی تھی یا نہیں؟ اور اگر مرد حضرت آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے گنہگار ہیں تو عورت جو حوا کی قائم مقام ہے کیوں گنہگار نہیں۔پس مسیح صرف عورت کے بطن سے ہونے کی وجہ سے ضرور گنہگار ہوئے مفتی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ سرپٹ دوڑا۔مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ میں بھی اسکے پیچھے پیچھے چلا۔وہ ایک مجمع میں جا گھسا اور بمنت کہنے لگا۔آپ جانے دیجئے۔ایک اور پادری صاحب کے متعلق مفتی صاحب نے مزیدار گفتگو کھی ہے جو بالکل لا جواب ہو گیا۔تو یہ بہت بڑا فرق ہے۔اسلام اور دوسرے مذاہب میں۔دیکھو وہی یورپ جو زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے۔اور جس نے ہمارے جاہل۔نادان اور وحشی نام رکھے ہیں جو دنیاوی علوم میں ہمیں بہت عرصہ تک بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔مگر وہی کتاب جس کو نادانوں نے تیرہ سو برس کی پرانی کتاب کہا۔جب وہ لیکر ہم اہلِ یورپ کے سامنے جاتے ہیں تو اس کو ادب کے ساتھ اپنے زانو ہمارے سامنے نہ کرنے پڑتے ہیں۔اور جو دنیاوی علوم میں ہمارے استاد بنتے ہیں دینی علوم میں اس کتاب کے ذریعہ ہمارے شاگرد بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پس اسلام اور قرآن کی کوئی بات حمد سے خالی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کو الحمد سے شروع کیا گیا ہے۔واقعہ میں کوئی شخص قرآن کو ہاتھ میں لے کرنا کام اور نامراد نہیں ہوسکتا۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اسکو چھوڑ دیا۔اب حضرت مسیح موعود کا طفیل ہے کہ ہمیں قرآن کا علم ملا ہے۔ورنہ پہلے قرآن ہی تھا کہ جسے مولویوں نے غیروں کو دکھانے تک سے منع کر دیا تھا تا کہ نہ کوئی دیکھے اور نہ ان سے کچھ پوچھے۔اور اگر کوئی مسلمان بھی پوچھتا تو بجائے اسکے کہ اسے جواب دیتے کہتے