خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 531

خطبات محمود جلد (5) ۵۳۰ اس چھوٹی سی کتاب میں اس کا رڈ موجود ہوتا ہے۔پھر کسی لمبی تحریر کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کے اشاروں میں ہی وہ بات حل ہوتی ہے۔پس اسلام ہی ایک ایسا پاک مذہب ہے کہ اسکے کسی عقیدہ کو بیان کرتا ہوا انسان کہیں شرمندہ نہیں ہو سکتا۔عبادات کے بیان میں شرمندگی نہیں۔عقائد ایسے صاف اور پر حکمت ہیں کہ ان کے بیان کرنے میں ہمیں ایک ذرہ بھر شرمندگی نہیں۔اعمال کو لو یا کسی اور تعلیم کولو۔خدا کے ساتھ انسان کے کیسے تعلقات ہوں۔بڑوں کے ساتھ کیسے تعلقات ہوں۔اور چھوٹوں کے ساتھ کیسے۔اسی طرح سیاسی تعلیم کو لو۔غرض کسی پہلو کی تعلیم ہو۔دشمن کو اس پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔لیکن دیگر مذاہب کی یہ حالت نہیں بلکہ اسکے برعکس ہے۔وہ اپنی تعلیم کو سمجھدارلوگوں کے سامنے پیش نہیں کر سکتے۔انکی باتیں لوگوں کو ان پر ہنسی کا موقعہ دیتی ہیں۔مثلاً عیسائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ باپ۔بیٹا۔روح القدس تینوں مل کر ایک خدا ہوئے اور تینوں الگ الگ بھی خدا ہیں۔مگر یہ کہاں کا حساب ہے کہ تین مل کر ایک ہوتا ہے؟ کیونکہ کسی کی عقل میں اس کی بات کا آنا تو الگ رہا۔خود اسکی عقل میں بھی نہیں آسکتی اور کسی طریق سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔غرض ہر مجلس میں خواہ وہ عالموں کی ہو یا جاہلوں کی۔انکی اس بات پر ہنسا جائے گا۔اسی طرح ہندو مذہب والا ہے۔وہ بھی اپنے مذہب کے عقائد کو صاف طور پر اور بلا کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بیان کر سکے یہ ممکن نہیں۔مثلاً تناسخ کا مسئلہ ہے یا نیوگ کا۔جب نیوگ کا مسئلہ اوّل اوّل ظاہر کیا گیا تو آریوں نے اس پر بڑا فخر کیا۔مگر جب حضرت مسیح موعود نے اسکی حقیقت کھول کر رکھ دی تو اب اس پر کبھی تقریر نہیں کرتے اور نہ اسے علی الاعلان پیش کرتے ہیں۔مگر اسلام کی کوئی ایسی تعلیم نہیں ہے جسکو چھپانے کی ضرورت پڑے۔یا جس کے اظہار پر شرمندگی دامنگیر ہو۔دوسرے مذاہب کو یہ فخر حاصل نہیں ہے۔مفتی صاحب نے ایک پادری کے متعلق لکھا ہے کہ اس سے میری گفتگو ہو رہی تھی۔اور وہ رومن کیتھولک تھا۔اس گفتگو کوٹن کر ایک دوسرا شخص مفتی صاحب