خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 524

خطبات محمود جلد (5) ۵۲۳ اور فضلوں کو ختم نہیں کر سکتے۔اگر اسلام درجات کی حد بندی کر دیتا اور کہ دیتا کہ فلاں فلاں انعام کے بعد تمہیں کچھ نہیں مل سکتا۔تو گویا اپنے پیروؤں کوست کر دیتا مگر اسلام تو ستی کا دشمن ہے۔اس لئے اس نے درجات کی حد بست نہیں کی۔بلکہ کہہ دیا کہ اگر کسی نے بڑے سے بڑا درجہ بھی روحانیت کا حاصل کر لیا ہے تو بھی اسکے لئے آگے بڑھنے کا رستہ کھلا ہے۔پس اسلام تو یہی کہتا ہے کہ آگے بڑھو اور آگے بڑھو۔اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔دنیا کی جو حالت نبی کریم کے وقت میں تھی۔وہی حالت اب بھی ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تقویٰ کی بجائے عصیان کا دور دورہ تھا۔آج بھی ایسا ہی ہے۔دنیا کا کثیر حصہ اس قسم کا ہے جو خدا کی محبت کی جگہ دنیا کی محبت کے پیچھے پڑ گیا ہے۔اور خدا کو چھوڑ کر دنیا میں مشغول ہو گیا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔پس یہ مسیح موعود کا زمانہ ہے۔اگر یہ موقعہ بھی سستی اور غفلت میں گزرگیا تو پھر اور کون سا موقعہ آئے گا۔اس وقت رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔قرآن کریم میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کی گئی ہے وہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: واذا الجنۃ از لفت (التکویر ) اب ہر قسم کی شرارت اپنے زور پر ہے۔دہریت نے ہر طرف اپنے پیر پھیلا رکھے ہیں۔خدا کے بندے خدا سے دُور جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے حالات اور ایسے وقت میں جنت کو قریب کر دیا جائے گا۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئیے کہ نیکی میں استباق کریں۔مگر یا درکھو کہ نیکی کرو اور ساتھ ہی خدا سے ڈرو۔بعض لوگ نیکی میں اگر قدم آگے بڑھاتے ہیں تو اس پر فخر کرتے ہیں۔اور اگر ان کے کسی معاملہ میں انکے خلاف کچھ نوٹس لیا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم سے یہ معاملہ کیوں کیا گیا۔یادرکھو۔خُدا کو کسی کی خدمت کی پرواہ نہیں۔اللہ غنی ہے۔وہ صمد ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ (الاخلاص) کہہ دو کہ اللہ ایک ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔سب اسکے محتاج ہیں۔بعض لوگوں نے صمد کے معنی غنی کئے ہیں۔مگر نہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔پس یاد رکھو کہ اللہ صمد ہے۔وہ ہرگز ہر گز کسی کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کا حکم خدا نے اس لئے نہیں دیا کہ نعوذ باللہ خدا کسی مصیبت میں مبتلا ہے۔اور کہتا ہے کہ بھا گنا بھا گنا اور جلدی مجھے اس