خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 525

خطبات محمود جلد (5) ۵۲۴ مصیبت سے بچانا۔اس کا یہ حکم دینا اس کے کسی فائدہ کیلئے نہیں۔بلکہ خود تم پر احسان ہے۔اور دین کی خدمت کرنا خدا پر احسان کرنا نہیں بلکہ یہ بھی تم پر خدا کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ موقع دیا۔یہ اللہ کا احسان ہے کہ وہ ہم کو اس کام کا موقع دے اگر تم تقویٰ پیدا کرو گے تو خدا پر احسان نہیں کرو گے۔یہ سب خدا کے احسان ہیں کہ باوجود یہ سب کام اسکے نہیں ہمارے اپنے لئے ہیں۔پھر وہ ہمیں ثواب اور انعام دیتا ہے۔پس کیسا نادان ہے وہ انسان کہ اسی کے فائدہ کیلئے کوئی اسے بتادے کہ میاں اس طرح کرو گے تو تمہارے لئے مفید ہوگا۔وہ مان تو لے گا مگر الٹا اس پر احسان جتائے کہ میں نے تمہارا کہا مانا ہے۔خدا بندوں کو نیکی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ لوگ محتاج ہیں کہ خدا انکی مدد اور نصرت فرمائے۔پھر نعوذ باللہ خداد و بتا نہیں کہ اپنے بندوں کو اپنی مدد کیلئے بلا رہا ہے۔بلکہ بندے ڈوب رہے ہیں وہ انکی مدد اور ان ڈوبتوں کو بچانے کیلئے بڑھتا ہے اور غرق ہونے سے بچنے کے طریق بتاتا ہے۔پس کیسا نادان ہے وہ شخص کہ جو ڈوب رہا ہے۔اور کوئی اس کو بچانے کے لئے رسہ پھینکے اور کہے کہ پکڑ لو غرق ہونے سے بچ جاؤ گے تو وہ کہے کہ اگر تمہارے کہنے سے میں نے رسہ پکڑ لیا تو کیا انعام دو گے۔تو خدا بندوں کو اس لئے نیکی کا حکم نہیں دیتا کہ نعوذ باللہ اس کو کسی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔بلکہ اس لئے کہ اگر بندے اسکی بتلائی ہوئی راہوں پر قدم نہیں ماریں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔پس جس کو کوئی دین کا کام کرنے کا موقع ملتا ہے وہ خوش قسمت ہے۔اس کا خدا پر کوئی احسان نہیں۔بلکہ اپنی جان پر احسان ہے۔کیسی نادانی ہے کہ کام اپنی جان کے فائدہ کیلئے کیا جائے۔اپنے نفس کو بچایا جائے۔مگر سمجھا یہ جائے کہ ہم نے خدا پر احسان کیا ہے۔اس میں خدا کو کونسا فع ہوا۔پھر اس پر احسان کے کیا معنے؟ پس وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو فخر کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں خدمت کی اور ہم نے فلاں کام کیا وہ غور کریں کہ کیا انہوں نے خدا کی خدمت کی یا اپنے نفس کی۔یا خدا نے آقا ہوکر مالک ہو کر ان اپنے غلاموں کی خدمت کی۔انہیں ہلاکت سے بچنے اور انعامات کے حاصل کرنے کے طریق بتلائے تو احسان اس کا ہے کہ اسکے بتانے سے ہم ہلاکت سے بچ گئے نہ کہ ہمارا کہ ہم نے ان پر عمل کیا۔کیا وہ شخص عقلمند ہوسکتا ہے جو تاریکی میں راستہ بھولا ہوا گرتا پڑتا ٹھوکریں کھا رہا ہو۔کوئی اسے بتائے کہ تم ادھر سے جاؤ اور فلاں دیوار کے ساتھ ساتھ جانا۔پھر آگے تمہیں فلاں گلی ملے گی۔وہاں سے نکل کر آگے