خطبات محمود (جلد 5) — Page 455
۴۵۴ 56 خطبات محمود جلد (5) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان فرموده ۴ رمئی ۱۹۱۷ء حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیات تلاوت فرمائیں:۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَؤُفٌ رَّحِيْمٌ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ وَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ (التوبه ۱۲۸-۱۲۹) تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ بعد ازاں فرمایا :- یوں تو اللہ تعالیٰ کے احسانوں۔فضلوں اور انعاموں کی گنتی نہیں۔انسان کے جسم کا کونسا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احسان کے نیچے دبا ہوا نہیں۔لیکن اس کے انعامات میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایک بہت بڑا انعام ہے۔بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا نہیں اور اکثر ہیں جنہوں نے سمجھا نہیں۔جو آپ کے دشمن ہیں۔وہ اگر آپ کی شان ارفع میں کچھ گستاخی کرتے ہیں تو وہ ایک حد تک معذور کہے جا سکتے ہیں۔لیکن افسوس ماننے کا دعویٰ کرنے والوں پر ہے کہ وہ آپ کے مرتبہ کو نہیں سمجھتے۔اور ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں جو آپ کی مزیل شان ہوتی ہیں۔بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو نہیں سمجھا۔وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت دُور جا پڑے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو وہ شان عطا فرمائی ہے کہ مسلمان جس قدر بھی آپ کی تعریف کرتے کم تھی۔ہر ایک قوم اپنے بڑوں کو بڑا بناتی ہے۔عیسائی حضرت مسیح کو۔ہندو کرشن اور رامچندر کو خُدا بنا رہے ہیں۔اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگوں کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے بھی اپنے بڑوں کو اتنا بڑا درجہ دیا کہ خدائی تک دے دی۔ان کا یہ فعل بُرا ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ غلطی پر ہیں۔کیونکہ وہ شرک کے مرتکب ہوئے ہیں۔لیکن ہمیں اس جماعت