خطبات محمود (جلد 5) — Page 454
خطبات محمود جلد (5) ۴۵۳ معمولی معمولی باتوں پر اچھل پڑو۔اور اسے شکستہ دل بنا کر اور کمزوریوں کا مرتکب بناؤ اس سے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ہر ایک انسان کو یہ باور ہونا چاہئیے کہ خوبیوں والی ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے اور ہر ایک شخص کو یہ بھی خیال کرنا چاہیئے کہ جس طرح مجھ میں کچھ خوبیاں ہیں۔اور کچھ نقص ہیں۔اسی طرح دوسرے میں بھی کچھ نقص اور خوبیاں ہیں۔اس کے متعلق یہ ہونا چاہیے کہ اس سے اس کی نیکیاں سیکھی جائیں اور اس کو اپنی نیکیاں سکھائی جائیں۔پس اس طرح آپس میں ایک دوسرے کی اعانت کرو۔تمدن کی غرض بھی یہی ہے۔جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے نہ وہ خود کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اور نہ کسی دوسرے کے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کا تمدن اعلیٰ ہو۔ایک کی مدددوسرا کرے۔یہ نہیں کہ معمولی معمولی باتوں پر بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا جائے جس سے قوم کے افراد کے اندر خرابی پیدا ہو۔نقصوں سے پاک تو صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔مگر نہ مانے والے تو خدا کو بھی نہیں مانتے اور اس میں بھی نقص نکالتے ہیں۔پس اصلاح کا طریق یہ ہے کہ معمولی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے۔اور نیک نیتی سے ان کے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو وہ ذریعہ بتائے جو بہتر سے بہتر اور کامیابی کے لئے یقینی ہو۔الفضل ۱۲ رمئی ۱۹۱۷ء)