خطبات محمود (جلد 5) — Page 456
خطبات محمود جلد (5) ۴۵۵ پر تعجب آتا ہے جس نے ایسا پیشوا پایا جو سب سے بڑا ہے مگر اس نے اپنے محسن کو اس کے اصل درجہ سے بھی گھٹانا شروع کر دیا۔بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی عظمت کو سمجھتے تو غلطی میں نہ پڑتے۔مجھے حضرت خلیفہ اول کے وقت میں بار بار لیکچروں کے لئے باہر جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے سننے والے لوگوں کو اکثر یہی بتایا کہ ہمارے تمہارے اختلاف کا تصفیہ ایک آسان طریق سے اس طرح ہو سکتا ہے کہ دیکھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت ہمارے اعتقادات کے رو سے ثابت ہوتی ہے یا کہ تمہارے اعتقادات سے۔اگر آپ کی عظمت اور عزت کا خیال رکھا جائے تو سب اختلاف مٹ جاتے ہیں۔حیات و وفات مسیح کے مسئلہ میں دیکھنا چاہیئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت کس میں ہے آیا اس میں آپ کی عظمت ہے کہ جب آپ کی امت بگڑ جائے تو اسکی اصلاح کے لئے ایک اور شخص کولا یا جائے جو براہ راست آنحضرت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔اس کے نبوت ورسالت پانے میں آپ کا کوئی تعلق نہیں یا اس میں آپ کی عزت ہے کہ جب آپ کی امت بگڑے تو آپ ہی کے غلاموں میں سے کوئی شخص اصلاح کے لئے کھڑا کر دیا جائے۔پھر کیا آپ کی اس میں عزت ہے کہ آپ کے آنے سے وہ فیضان نبوت جو آدم کے وقت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ابناء آدم کومل رہا تھا بند ہو گیا۔اور آپ نعوذ باللہ اس فیض کے دریا میں روک ہو گئے۔اور آپ کی امت اس سے محروم کر دی گئی یا اس میں کہ آپ کی کامل اتباع اور پوری فرمانبرداری سے یہ رتبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ان تمام مسائل میں جو ہم میں اور غیر احمدیوں میں اختلافی ہیں۔اگر یہ دیکھا جائے کہ کن مسائل کو تسلیم کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہوتی ہے اور کن سے ہتک تو معلوم ہو جائے گا کہ حق پر کون ہے۔غرض آپ کے درجہ کے نہ سمجھنے سے بڑا اختلاف پڑ گیا ہے۔اور اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔اگر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن معلوم ہوتے تو ضرور تھا کہ محبت پیدا ہوتی کیونکہ ہمیشہ محبت اور عشق خوبیوں کو دیکھنے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔اور یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ کسی شخص کی نہ کوئی خوبی معلوم ہو۔اور نہ اس کے محاسن۔اور پھر انسان اس سے محبت کرے یا اس سے عشق پیدا ہو۔مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے بیان کیا ہے کہ بے رویت کبھی عشق پیدا نہیں ہو سکتا