خطبات محمود (جلد 5) — Page 276
خطبات محمود جلد (5) ۲۷۶ اُسے لے گئے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے۔ تو پھر وہ چھٹ کر آپ کے پاس چلا آیا۔ اس کے پیچھے ہی دو آدمی اس کے لینے کے لئے آگئے ۔ انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ آپ نے عہد کیا ہوا ہے کہ ہمارے آدمی کو آپ واپس کر دیں گے۔ آپ نے کہا کہ ہاں عہد ہے اسے لے جاؤ۔ اس نے کہا۔ یا رسول اللہ ! یہ لوگ مجھے بہت دکھ دیتے اور تنگ کرتے ہیں۔ آپ مجھے ان کے ساتھ نہ بھیجئے ۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں غداری نہ کروں ۔اس لئے تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔ وہ چلا گیا اور راستے میں جا کر ایک کو قتل کر کے پھر بھاگ آیا اور آکر کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کا ان سے جو عہد تھا وہ تو آپ نے پورا کر دیا۔لیکن میرا تو ان سے عہد نہ تھا کہ میں ان کے ساتھ جاؤں گا۔ اس لئے سے جو میں پھر آگیا ہوں۔ دوسرا شخص پھر اسکے لینے کے لئے آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہم تمھیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ آپ نے پھر اسے بھیج دیا۔ لیکن وہ اکیلا آدمی اسے نہ لے جا سکا۔اس لئے وہ رہ گیا نہ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یہی کہا کہ میں جو عہد کر چکا ہوں اس کے خلاف نہیں کروں گا۔ تو آپ نے باوجود کافروں سے عہد کرنے کے اور ایک مسلمان کے سخت مصیبت میں مبتلا ہونے کے اُسے پورا کیا۔ انگریز اگر کافر ہیں تو وہ مشرک تھے جن کی بیٹیاں لینی بھی جائز نہیں لیکن عیسائیوں کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نظری (المائدة : ۸۳) یہ مودّت میں تمہارے بہت قریب ہیں ۔ پس جب مشرکین سے جو نہ قیامت کے قائل ہیں نہ کوئی کتاب رکھتے ہیں اور نہ کسی نبی کو مانتے ہیں ان سے کئے ہوئے عہد کو توڑنا جائز نہیں تو اُن سے کئے ہوئے عہد کو توڑنا کیونکر جائز اور روا ہو سکتا ہے جو اہل کتاب ہیں اگر کوئی کہے کہ میں نے تو اس سے کوئی عہد نہیں کیا۔ میں کہتا ہوں گورنمنٹ اسے اپنی رعا یا سمجھ کر بہت سے فوائد پہنچاتی ہے۔ اگر وہ اس کی رعایا نہ ہو تو کبھی اس سے ایسا سلوک نہ کرے اور پھر وہ اپنے آپ کو رعا یا ظاہر بھی کرتا ہے اس طرح گویا وہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ میں گورنمنٹ کی اطاعت اور فرمانبرداری کروں گا ۔ ہاں اگر کوئی یہ اعلان کر دے کہ میں گورنمنٹ کی رعایا نہیں لے بخاری کتاب الشروط ۔